ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ میں پندرہ سو سالہ ولادت باسعادت رسول اللہ ﷺکے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد
سیرت نبوی انسانوں کی آزادی کی نگہبان اور مشعل راہ ہے، ریاست مدینہ کی تشکیل سے نبی اکرم ﷺنے انسانی اجتماعیت کو تحفظ دینے کا دستور بنایا،مفتی عبد الخالق


لاہور: ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے قیام کی 25 سالہ تقریب پر پندرہ سو سالہ ولادت باسعادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد، مفتی عبد الخالق آزاد رائپوری نے خطاب میں کہا کہ شریعت انسانیت امن، خوشحالی اور ترقی کیلئے کردار ادا کرتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے قیام کی 25 سالہ تقریبات میں ڈائریکٹر جنرل ادارہ رحیمیہ مفتی عبد الخالق آزاد رائپوری، صدر مفتی مختار حسن، ڈاکٹر راو عبد الرحمن، عرفان یونس بٹ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی عبد الخالق آزاد رائپوری نے کہا کہ سیرت نبوی انسانوں کی آزادی کی نگہبان اور مشعل راہ ہے۔ ریاست مدینہ کی تشکیل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی اجتماعیت کو تحفظ دینے کا دستور بنایا۔
انھوں نے کہا کہ خلفائے راشدین کے زمانے میں ہی موجودہ پاکستانی جغرافیائی حدود میں دین اسلام کی شمع روشن ہو چکی تھی اس خطے نے دین اسلام کو اپنا قومی دین بنایا،ان کا کہنا تھا کہ ادارہ رحیمیہ دین اسلام کا قرآنی شعور نوجوان نسل میں پھیلا رہا ہے اس خطے کے اولیاء اللہ، محدثین نے انسانی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ دین اسلام کی اساس پر قائم حکومت کمزور انسانوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔
مفتی عبد الخالق آزاد نے مزید کہا کہ دین اسلام پر قائم معاشرے میں رواداری اور انسانی حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، انگریزوں نے اس خطے پر تسلط کے بعد یہاں کی بنیادی سیاسی، معاشی اور سماجی اقدار تبدیل کر دی، شریعت کے برعکس رومن لاء پر مبنی عدالتی نظام، قانونی نظام تشکیل دے کر انگریزوں نے انسانی حقوق ثبوتاژ کیے گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سماج کو قانون اور ڈسپلن کا پابند بنایا تاکہ بنیادی اخلاق کا عملی نظام قائم ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تربیت یافتہ سیاسی طاقت میں بدل دیا کہ وہ ابو جہل کے نظام کے خلاف متحد اور یکسو ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ذریعے سے عرب پوری دنیا میں ممتاز ہو گئے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی مختار حسن کا کہنا تھا کہ آج ہمیں سوچنا ہے کہ ہماری اقدار کس بنیاد پر قائم ہوں گی مغرب کا نظام اور معاشرت مسلط ہوگی یا ہماری ویلیوز دین اسلام کی انسان دوستی پر مبنی اقدار پر قائم ہوں گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ہمارا نوجوان اپنی تاریخ سے نابلد ہے۔ اگر ہم نے آج قوم بننا ہے تو اپنی قومیت کو محفوظ کرنا ہے۔کسی بین الاقوامیت کے پروپیگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔قومیت اپنی زبان اپنی زمین اور اپنی ویلیوز سے پیدا ہوتی ہیں۔اپنی دھرتی کو پہچانو اس کو سمجھو اور نو آبادیاتی بیانیے اور جھوٹی تاریخ کے پروپیگنڈہ سے بچو۔

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 5 دن قبل

ملک میں سونا مزید سستا ہو گیا
- 3 دن قبل
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- 2 دن قبل

علی ظفر کی عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی
- 3 دن قبل
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار
- 3 دن قبل
الخدمت کیطرف سے اجتماعی شادی کی تقریب، 60 گھر آباد ہوں گے
- 3 دن قبل

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- 2 دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 5 دن قبل
نوجوانوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری سے جوڑنے کا عملی قدم
- ایک دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 3 دن قبل
پاکستان میں نیا شناختی کارڈ متعارف
- 3 دن قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 5 دن قبل




