Advertisement
تفریح

اردو زبان کےمعروف شاعر اور مزاح نگار اِبن اِنشاء کی آج 47 ویں برسی منائی جا رہی ہے

مایہ ناز شاعر اور مزاح نگار اِبن اِنشاء کی ادبی خدمات یادگار ہیں،ان کی لازوال ادبی خدمات کی بدولت حکومت نے ان کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا

GNN Web Desk
شائع شدہ 7 months ago پر Jan 11th 2026, 8:01 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اردو زبان کےمعروف شاعر اور مزاح نگار اِبن اِنشاء کی آج 47 ویں برسی منائی جا رہی ہے

ویب ڈیسک: اردو زبان کے معروف شاعر،اور مزاح نگار اِبن اِنشاء کی آج 47 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

ابنِ انشاء اردو ادب کے ان چند تخلیق کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے شاعری، نثر اور مزاح نگاری میں یکساں مہارت کا مظاہرہ کیا۔

اردو ادب کے ہر فن مولا ابن انشاء 15 جون 1927ء کو جالندھر کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے، جن کا اصل نام شیر محمد خان تھا، انہوں نے 1946ء میں جامعہ پنجاب سے بی اے اور پھر 1953ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔

اِبن اِنشاء نے اپنی شاعری اور مزاح نگاری سے عوام میں مقبولیت پائی، اِبن اِنشاء نے اردو ادب کیلئے سفر نامے، ترجمے، اور شاعری پر مبنی تصانیف کا وسیع ذخیرہ چھوڑا جن میں ’’چاند نگر‘‘،’’ اردو کی آخری کتاب‘‘،’’ چلتے ہو تو چین کو چلیے‘‘،’’ دنیا گول ہے‘‘ قابل ذکر ہیں۔

اِبن اِنشاء نگرنگر گھومے جس کا احوال سفر ناموں میں اپنے مخصوص طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تحریر کیا، ان کے لفظوں میں رُومان اور نثر میں عصر حاضر کا شعور تھا۔

اردو کے مایہ ناز شاعر اور مزاح نگار اِبن اِنشاء کی ادبی خدمات یادگار ہیں،ان کی لازوال ادبی خدمات کی بدولت حکومت پاکستان نے ان کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

11 جنوری 1978ء کو انشاء جی دنیا سے کوچ کر گئے، وہ کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

 

Advertisement
Advertisement