کورونا کے خلاف مختلف اقسام کی ویکسین لگوانا مفید یا نقصان دہ،یوایچ ایس نے عوامی سروے شروع کردیا
لاہور : پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد اینٹی باڈیز ٹیسٹ کا کوئی فائدہ نہیں، لوگ لیبارٹریز کی چاندی نہ کروائیں۔اکثریت کو ویکسین کی پہلی ڈوز نہیں لگی، وی وی آئی پیز کو تیسری ڈوز لگانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔


وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ ویکسینیشن کا عمل بدقسمتی سے اتنا فعال نہیں جتنا ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ 80 فیصد لوگوں کو ویکسین لگے جس کےلئے ویکسینیشن پروگرام کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کو کورونا ویکسین کی پہلی ڈوز نہیں لگی۔ اس بات کا کوئی اخلاقی جواز نہیں کہ ہم وی وی آئی پیز کو ویکسین کی تیسری بوسٹر ڈوز لگائیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ بھارتی ڈبل میوٹنٹ وائرس 12 سیکنڈ میں ایک شخص سے دوسرے کو لگ سکتا ہے۔ لیکن برطانیہ نے بھارت پر سے سفری پابندیاں ہٹا دی ہیں جبکہ پاکستان پر برقرار رکھی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ سائنسی بنیادوں پر چیزوں کو نہیں دیکھ رہا۔ پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ وی وی آئی پیز ہر قسم کی ویکسین لگوانے کی کوشش میں ہیں۔ تاہم یہ ابھی ثابت ہونا باقی ہے کہ ایک سے زیادہ طرح کی ویکسین لگوانے کا کوئی فائدہ ہے یا نہیں۔
پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اس حوالےسے عوامی سروے شروع کیا ہے۔ پاکستان میں 5 سے 7 لاکھ لوگوں نے ایک سے زیادہ قسم کی ویکسین لگوئی ہے۔ پولی ویک ٹریکر سروے سے پتا چلے گا کہ ویکسین مکس اینڈ میچ سے فائدہ ہوا یا نقصان۔ انھوں نے کہا کہ سروے کیلئے فارم یو ایچ ایس کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جس کا لنک http://bit.ly.PolyVacUHS ہے۔
انھوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ اس لنک کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچائیں تاکہ ٹارگٹ کے مطابق 5 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا اینلائز ہوسکے ۔ اس موقع پر یو ایچ ایس ویکسین پروگرام کے فوکل پرسن ڈاکٹر شہنور اظہر نے پولی ویک ٹریکر سروے کے حوالے سے بریفنگ دی۔ پروفیسر جاوید اکرم نے میڈیا کے سوالات کا جوب دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ویکسین لگوانے کے بعد اینٹی باڈیز ٹیسٹ نہ کروائیں کیونکہ یہ ٹیسٹ کروانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لوگ ٹیسٹ کروا کر لیبارٹریز کی چاندی نہ کروائیں۔
پروفیسر جاوید اکرم نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کی 39 ہزار میوٹیشنز آسکتی ہیں۔ کورونا کی کوئی بھی ویکسین کمرشل استعمال کیلئے رجسٹر نہیں ہوئی۔ ابھی تک تمام ویکسینز کو ایمرجنسی استعمال کرنے کی اجازت ملی ہے۔ پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ ویکسین کو معاشی جنگ بنایا جارہا ہے۔ چائنیز ویکسین کے خلاف امریکی حکام پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہچائنیز ویکسینز وائرس کے خلاف کافی حد تک موثر ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ویکسین کورونا کے خلاف 100 فیصد موثر نہیں۔ تمام ویکسینز شدید بیماری سے 95 سے 100 فیصد تک تحفظ دیتی ہیں۔ پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ ویکسین شاپنگ کا رحجان ٹھیک نہیں۔
ٹرمپ کا سپریم لیڈر اور ایرانی قیادت کی اطلاع دینے پر شہریوں کو لاکھوں ڈالرز اور امریکا میں رہائش کا لالچ
- 5 گھنٹے قبل

امریکی افواج نے ایران کے خارگ جزیرے اور فوجی اہداف پر تاریخ کے طاقتور ترین حملے کیے،ٹرمپ
- 6 گھنٹے قبل

افغان وزارت دفاع کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پرقبضےاورنقصان پہنچانےکادعوی من گھڑت قرار
- ایک گھنٹہ قبل

متنازعہ رن آؤٹ کا معاملہ:آئی سی سی نے سلمان علی آغا کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا
- ایک گھنٹہ قبل
افغان طالبان کی پاکستان میں خوف پھیلانے کی کوشش ناکام بنا دی ہے،ترجمان پاک فوج
- 4 گھنٹے قبل

پشاور:صوبائی حکومت نے بی آر ٹی کرایوں میں اضافے کی تجویز مسترد کردی
- ایک گھنٹہ قبل

لبنان :اسرائیل کی سفاکیت کی انتہا ،اسپتال پر بمباری سے 12 ڈاکٹرز اور نرسیں جاں بحق
- ایک گھنٹہ قبل

خارگ جزیرے پر حملے کے بعد امارات میں امریکی ٹھکانے اب ہمارے جائز اہداف ہیں، ایران کا انتباہ
- 5 گھنٹے قبل

سونا مسلسل تیسرے روز ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 5 گھنٹے قبل

ملکی معیشت کے لئے اچھی خبر، زرِ مبادلہ ذخائر 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے،مشیر خزانہ
- 5 گھنٹے قبل

پٹرولیم کفایت شعاری سے ہونے والی بچت عوامی ریلیف پر خرچ ہوگی،وزیراعظم
- 6 گھنٹے قبل

سی ٹی ڈی کی لکی مروت میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی ، 6 دہشت گرد جہنم واصل
- 6 گھنٹے قبل











.jpg&w=3840&q=75)




