امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سے، ''حکومت نے بغاوت کے بعد جو پر تشدد اقدامات کیے ہیں، اس کے لیے احتساب کو فروغ دیا جا سکے گا۔''


امریکا، کینیڈا اور برطانیہ نے آنگ سان سوچی کے خلاف کارروائی میں ملوث میانمار کے اعلیٰ عہدے داروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ معزول ہونے کے ایک برس بعد، سوچی پر انتخابی اہلکاروں کو متاثر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
مغربی ممالک کی جانب سے یہ پابندیاں ایسے وقت عائد کی گئی ہیں جب ملک میں سوچی کے خلاف فوجی بغاوت کو ایک سال مکمل ہو رہا ہے۔ اس بغاوت کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور پھر اپوزیشن کی آوازوں کو دبانے کے لیے ایک وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع ہوا جس میں کم از کم 1,500 شہری ہلاک ہوئے۔
تینوں ممالک نے ایک ساتھ مل کر میانمار کے اٹارنی جنرل تھیڈا او، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹون ٹون او اور انسداد بدعنوانی کمیشن کے چیئرمین ٹن او پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ یہ افراد جمہوریت نوازرہنما سوچی کے خلاف ''سیاسی مقاصد کے تحت'' مقدمہ چلانے کے لیے جزوی طور پر ذمہ دار ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سے، ''حکومت نے بغاوت کے بعد جو پر تشدد اقدامات کیے ہیں، اس کے لیے احتساب کو فروغ دیا جا سکے گا۔''
ایک طرف مغربی ممالک نے فوجی حکمرانوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا، تو دوسری جانب فوجی جنتا نے آنگ سان سوچی پر 2020 کے الیکشن کے دوران انتخابی عہدیداروں پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا۔ ان انتخابات میں سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی نے فوج سے منسلک حریف جماعت کو شکست دی تھی۔
فوجی جنتا نے سوچی پر غیر قانونی طور پر واکی ٹاکی درآمد کرنے اور کووڈ19 پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے سمیت کئی الزامات پہلے ہی عائد کیے تھے اور اب اس کے ساتھ ہی ملک کے سرکاری رازداری قوانین کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
اگر یہ تمام الزامات ثابت ہو گئے تو 76 سالہ سوچی کو مجموعی طور پر 100 برس تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
فوجی جنتا نے الیکشن میں دھاندلی کا دعویٰ کرتے ہوئے 2020 کے انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے بغاوت کی سالگرہ سے قبل شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ سوچی کی حمایت میں حکومت مخالف مظاہروں یا احتجاج کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سوچی 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں 15 برس تک فوجی حکومت کی طرف سے مسلط کردہ نظر بندی کے سبب گھر میں ہی رہیں۔ جمہوریت کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں پر انہیں 1991 میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔
سن 2016 میں بعض جمہوری اداروں کو کچھ اختیارات کی منتقلی کی بھی انہوں نے نگرانی کی، تاہم میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے قتل عام اور تشدد سے انکار کی وجہ سے ان کی ساکھ جلد ہی داغدار بھی ہو گئی۔

بیرون ملک جانے والے شہریوں کیلئے اچھی خبر،پاکستان اوریو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق
- 41 منٹ قبل

ٹرمپ کا معاشی حملہ ،ایران کیساتھ تجارت کرنیوالے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان
- ایک گھنٹہ قبل

ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے عوام کو سہولیات کی فراہمی مزید سہل اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل میں تیزی لائی جائے،وزیراعظم
- 18 گھنٹے قبل

بنوں: امن کمیٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق
- ایک گھنٹہ قبل

شہریوں کیلئے اچھی خبر، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
- 35 منٹ قبل
جاپان جنوبی پنجاب میں بچوں کی صحت کیلئے 18.62 ملین ڈالر گرانٹ دے گا،معاہد ے پر دستخط
- ایک گھنٹہ قبل

نئے کرنسی نوٹ تیار، چھپائی کیلئے اسٹیٹ بینک کو حکومت کی اجازت کا انتظار
- ایک دن قبل

وزیراعظم کا نیووٹیک کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان، تکنیکی و فنی پروگرامز کے نئے اہداف کا تعین کرنے کی ہدایت
- 20 گھنٹے قبل

اسلام آباد کے بعد لاہور میں گیس لیکج دھماکا،8 افراد جھلس کر زخمی
- 21 گھنٹے قبل

جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما مولانا سلیم اللہ خان ترکئی انتقال کر گئے
- 9 منٹ قبل

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال
- 18 گھنٹے قبل

سابق ٹیسٹ کرکٹر اور قومی سلیکٹرمحمد الیاس انتقال کر گئے
- ایک دن قبل









.jpg&w=3840&q=75)
