بھارتی ریاست کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے حوالے سے ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق کرناٹک ہائیکورٹ نے منگل کو تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب پہننا اسلامی عقیدے کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے ۔ ہائیکوٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تعلیمی اداروں کو یونیفارم تجویز کرنے کا حق ہے۔
کرناٹک ہائیکورٹ نے مسلم طالبات کی طرف سے کالجوں میں حجاب پہننے کی اجازت کے لیے دائر درخواستوں کو خارج کر دیا۔
عدالت نے 10 فروری کو مسلمان طالبات کو ہدایت دی تھی کہ جب تک عدالت حجاب پر پابندی کو ختم کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں سنا دیتی اس وقت تک کوئی بھی مذہبی لباس نہ پہنیں۔
دوسری جانب کرناٹک ہائی کورٹ کا حجاب سے متعلق تعصب پر مبنی فیصلے کے بعد بھارت میں جگہ جگہ مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ، ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں باحجاب خواتین احتجاج ریکارڈ کرا یا۔
خیال رہے کہ کرناٹک کے بعض کالجوں کی جانب سے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف درخواست مسلم خواتین طالبات نے دائر کی تھی۔
معاملے کا پس منظر
ریاست کرناٹک جہاں ہندو انتہا پسند جماعت پی جے پی کی حکومت ہے، مقامی حکومت نے 5 فروری کو حکم جاری کیا تھا کہ تمام اسکول اورکالج انتظامیہ کی جانب سے طے کیے گیے ڈریس کوڈ پرعمل کریں جس میں حجاب اور برقع پہننے پر پابندی ہوگی۔
فیصلے کے بعد ریاست کے کچھ تعلیمی اداروں نے باحجاب طالبات کو داخلے سے روکا جس کے خلاف طلبہ اور ان کے والدین نے احتجاج کیا جبکہ ملک کے معروف اداکار بھی اس کے خلاف آواز اٹھاتے نظر آئے ۔
یاد رہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد 14 کروڑ ہے جو اس کی مجموعی آبادی کا 14 فیصد حصہ ہیں۔
بھارت میں تاریخی طور پر کبھی عوامی سطح پر حجاب کو ممنوع قرار دیا گیا اور نہ ہی محدود کیا گیاہے ، یہاں خواتین کا سر پر اسکارف پہننا ملک بھر میں عام ہے، بھارت کے قومی چارٹر میں مذہبی آزادی کو سیکولر ریاست کے ساتھ سنگ بنیاد کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ قبل ازیں 2004 میں فرانس سمیت دیگرممالک میں بھی اسکولوں میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

چیئرپرسن پنجاب یونیورسٹی شعبہ فلم اینڈ براڈکاسٹنگ ڈاکٹر لبنیٰ کی حمزہ شہباز سے ملاقات، تعلیمی و تحقیقی لائحہ عمل پر بریفنگ
- 6 hours ago

اسحاق ڈار کا چینی وزیر خارجہ سےٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن کی بحالی پر زور
- 6 hours ago

بانی پی ٹی آئی اوراہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سماعت کیلئے مقرر
- 9 hours ago

وزیراعظم اور کویتی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 7 hours ago

مشرق وسطی کشیدگی : جنگ بندی مذاکرات میں پاکستان کی ٹیلیفونک سفارتکاری نے اہم کردار ادا کیا،امریکی میڈیا
- 9 hours ago

اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 2 hours ago

پی ایس ایل: کراچی کنگز کا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 182 رنز کا ہدف
- 4 hours ago

شہداد کوٹ اور اطراف میں زلزلےکے شدید جھٹکے، لوگوں میں شدید خوف و ہراس
- 9 hours ago

وزیر اعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ،56 ارب روپے کا بوجھ حکومت برداشت کرے گی
- 2 hours ago

ٹرمپ کا پھر یو ٹرن:ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے مزید 10 دن کیلئے موخر کرنے کا اعلان
- 9 hours ago

تہران : پاکستانی سفارتخانے کے اطراف میں اسرائیل نے بمباری،سفارتی عملہ محفوظ
- 8 hours ago

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کو پناہ دینے والے تمام ہوٹلز کو جنگی اہداف تصور کیا جائے گا، ایران
- 8 hours ago








