Advertisement

بھارتی عدالت کا حجاب پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ

بھارتی ریاست کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے حوالے سے ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Mar 15th 2022, 5:56 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بھارتی عدالت کا حجاب پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ

تفصیلات کے مطابق کرناٹک ہائیکورٹ نے منگل کو تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے  کہ حجاب پہننا اسلامی عقیدے کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے ۔ ہائیکوٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی  کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تعلیمی اداروں کو یونیفارم تجویز کرنے کا حق ہے۔

کرناٹک ہائیکورٹ نے مسلم طالبات کی طرف سے کالجوں میں حجاب پہننے کی اجازت کے لیے دائر درخواستوں کو خارج کر دیا۔

عدالت نے 10 فروری کو مسلمان طالبات کو ہدایت دی تھی کہ جب تک عدالت حجاب پر پابندی کو ختم کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں سنا دیتی اس وقت تک کوئی بھی مذہبی لباس نہ پہنیں۔

دوسری جانب کرناٹک ہائی کورٹ کا حجاب سے متعلق تعصب پر مبنی فیصلے کے بعد بھارت میں جگہ جگہ مظاہرے شروع ہو گئے  ہیں ،  ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں باحجاب خواتین احتجاج ریکارڈ کرا یا۔ 

خیال رہے کہ کرناٹک کے بعض کالجوں کی جانب سے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف درخواست مسلم خواتین طالبات نے دائر کی تھی۔

 معاملے کا پس منظر

ریاست کرناٹک جہاں ہندو انتہا پسند جماعت پی جے پی کی حکومت ہے، مقامی حکومت نے 5 فروری کو حکم جاری کیا تھا کہ تمام اسکول اورکالج انتظامیہ کی جانب سے طے کیے گیے ڈریس کوڈ پرعمل کریں جس میں حجاب اور برقع پہننے پر پابندی ہوگی۔

فیصلے کے بعد ریاست کے کچھ تعلیمی اداروں نے باحجاب طالبات کو داخلے سے روکا جس کے خلاف طلبہ اور ان کے والدین نے احتجاج کیا جبکہ ملک کے معروف اداکار  بھی اس کے خلاف آواز اٹھاتے نظر آئے ۔ 

یاد رہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد 14 کروڑ ہے جو اس کی مجموعی آبادی کا 14 فیصد حصہ ہیں۔

بھارت میں تاریخی طور پر کبھی عوامی سطح پر حجاب کو ممنوع قرار دیا گیا اور نہ ہی محدود کیا گیاہے ، یہاں خواتین کا سر پر اسکارف پہننا ملک بھر میں عام ہے، بھارت کے قومی چارٹر میں مذہبی آزادی کو سیکولر ریاست کے ساتھ سنگ بنیاد کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ قبل ازیں 2004 میں فرانس سمیت دیگرممالک میں بھی اسکولوں میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

Advertisement
Advertisement