جینیوا: عالمی بینک نے غذائی قلت سے عالمی قحط پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔


اقوام متحدہ اور عالمی بینک نے مستقبل قریب میں کورونا وائرس کی وبا اور یوکرین جنگ کے باعث غذائی قلت کے بحران سے خبر دار کرتے ہوئے انسانی زندگیاں بچانے کے لئے فوری اقدات پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نےخبردار کیا کہ یوکرین تنازعہ دنیا بھر میں سماجی اور اقتصادی افراتفری کو جنم دے سکتا ہے لہذا ہمیں بحرانوں کے حل اور لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے آج سے عالمی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
عالمی بینک کی نئی گلوبل اکنامک پراسپیکٹس رپورٹ جاری کی گئی جس کے مطابق عالمی بینک کے سربراہ ڈیوڈ مالپاس نے کہا ہےکہ بہت سے ممالک میں مہنگائی کئی دہائیوں کی بلندترین سطح پرپہنچ چکی ہے۔
عالمی بینک کے سربراہ نے کہا کہ اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔ غذائی قلت کے نتیجے میں بھوک میں اضافے اور یہاں تک کہ قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے۔دنیا کے بیشتر حصوں میں کمزور سرمایہ کاری کی وجہ سے شرح نمو کی سست رفتاری ممکنہ طور پر ایک پوری دہائی تک برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ اب بہت سے ممالک میں افراط زر کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ رسد میں آہستہ آہستہ اضافے کی توقع ہے، اس صورتحال کے باعث افراط زر لمبے عرصےتک بلند رہنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین میں جنگ، چین میں کورونا لاک ڈائون اور سپلائی چین میں خلل سے عالمی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔یوکرین پر روس کے حملے نے توانائی اور گندم کی عالمی تجارت کو درہم برہم کر دیا اور کورونا وائرس وبا کے اثرات سے نجات پا رہی عالمی معیشت کو نشانہ بنایا۔ اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک کے لیے کساد بازاری سے بچنا مشکل ہو گا۔عالمی بینک نے رواں سال کے لیے اپنی شرح نمو کے تخمینے میں ایک فیصد سے زیادہ کمی کر دی ہے۔ بینک ماہرین نے سٹیگ فلیشن کے خطرے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے جو زیادہ افراط زر اور سست نمو کا مرکب ہے۔
عالمی بینک نے رواں سال شرح نمو میں 2.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ عالمی بینک نے جنوری میں 2022کے لئے شرح نمو میں4.1 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ عالمی بینک نے آئندہ مالی سال یعنی 2023 اور 2024 کے لیے پیداواری شرح میں 3 فیصد اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔
بینک کو توقع ہے کہ رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ توانائی سے ہٹ کر دیگر اشیاکی قیمتوں میں 18 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے موجودہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا موازنہ 1980کی دہائی کے تیل کے بحران سے کیا ہے۔

پاکستان سہ ملکی سریز کا فاتح بن گیا،فائنل میں سری لنکا کو6 وکٹو ں سے شکست
- a day ago

اسحاق ڈار سے مصری ہم منصب کی ملاقات، دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
- 5 hours ago

27 ویں آئینی ترمیم پر انسانی حقوق کمشنر کا بیان زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا، دفتر خارجہ کا ردعمل
- 5 hours ago

گلوکار ساحر علی بگا کا گانا ’’مستانی‘‘ مقبول ہو گیا
- 5 hours ago

بغیر تصدیق شدہ یا جعلی دستاویزات پر بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،محسن نقوی
- a day ago
سٹڈنی: دوران پروازدو طیارے آپس میں ٹکرا گئے،پائلٹ جاں بحق
- 3 hours ago

منشیات کی سمگلنگ پختونخوا حکومت کی زیرنگرانی ہوتی ہے جس کا پیسہ دہشتگردی میں استعمال ہوتا ہے،عطا تارڑ
- 4 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
الیکشن کمیشن نے ہری پور ضمنی انتخابات کو متنازع بنانے کے الزامات کوبے بنیاد قرار دے دیا
- 5 hours ago

خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی تجویز زیر غور
- 2 hours ago

آئی سی آر سی اور میڈیا ان لیمیٹڈ کے اشتراک سے صحافیوں کے لیے دو روزہ 'ہیومینیٹیرین رپورٹنگ' ورکشاپ کا انعقاد
- 21 hours ago

ایف سی ہیڈ کوارٹرز خودکش دھماکا: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق ہو گئی
- 5 hours ago

چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کا نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائے گا،وزیر دفاع
- an hour ago













