Advertisement
پاکستان

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور

ایکشن ایکٹ ترمیمی بل کے تحت نگران حکومت کو مالیاتی اداروں سے معاہدہ کرنے کی اجازت مل گئی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jul 26th 2023, 11:38 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابات ترمیمی بل 2023 کی بعض ترامیم کے ساتھ منظوری دے دی گئی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کیاگیا اورسینٹ سے 90 دن کے اندر منظور نہ کیا گیا، انتخابات ایکٹ 2017 میں ترمیم کرنے کا بل (انتخابات ترمیمی بل 2023) فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔جس کی منظوری کے بعد اس پر عمومی بحث کرائی گئی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کے حوالے سے بتایا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں انتخابی قانون 2017 میں تمام ترامیم پر اتفاق رائے تھا،تاہم ایک شق 230 پر اتفاق نہیں تھا،میڈیا پر کہا گیا کہ یہ شق گزشتہ روز کی گئی،یہ شق جمعہ کو ارکان کو بذریعہ وٹس ایپ سرکولیٹ کی گئی۔

کمیٹی کے چیئرمین نے آج تمام ممبران کو طلب کیا،اس شق کا دوبارہ جائزہ لیاگیا،کچھ چیزیں اس میں سے نکال دی گئی ہیں،اس شق کو اب آسان بنادیا ہے۔ہم آنے والے انتخابات کو صاف شفاف بنانا چاہتے ہیں تاکہ قانون میں ابہام یا سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتخابی عمل یا نتائج پر کوئی اثر انداز نہ ہوسکے۔وفاقی وزیر سردار ایاز صادق نے کہا کہ کمیٹی نے بل میں ترامیم کی کثرت رائے سے منظوری دی ہے،ایشیائی ترقیاتی بنک کی جانب سے نگران دور میں معاہدے کےحوالے سے ان کے تحفظات سامنے آئے ہیں،کیونکہ جن منصوبوں پر کام شروع ہوجائے تو اس میں نگران دور کے تعطل سے کنٹریکٹر ڈی موبلائز ہوجاتے ہیں،نگران حکومت کو کثیر الجہتی اور دوطرفہ معاہدوں تک محدود کیا گیا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کے پاس سرمایہ کاری کے لئے ساری دنیا ہے،نیلامی کے اشتہار کے بعد اس میں تعطل سے سرمایہ کار چلے جاتے ہیں۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بل کی دیگر شقوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے،سیکشن 230 کی ممبران نے مخالفت کی تھی۔وزیر قانون کے شکر گزار ہیں کہ ایوان کی ڈسکشن کو مدنظر رکھا یہی اس پارلیمان کا حسن ہے۔اس وجہ سے ذیلی شق ون اور ٹو واپس لے لی گئی۔آئی ایم ایف سے معاہدہ میں ان کے لوگوں نے غیر ضروری طور پر سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کیں۔قومی اثاثوں کی نجکاری نگران حکومت کیسے کرسکتی ہے؟ منظور کاکڑ نے کہا کہ اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین نے شائستگی سے اجلاس چلائے، قوانین میں بہتری لائی ہے،ہر نکتہ پرتفصیلی بحث ہوئی۔بلوچستان عوامی پارٹی نے اپنا کردار ادا کیا،اچھی ترامیم ہوئی ہیں،ملک کو ڈیفالٹ سے نکالنے پر ہم تمام جماعتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

طاہربزنجو نے کہا کہ قانونی موشگافیوں کو ماہرین قانون بہتر سمجھتے ہیں۔نظریہ ضرورت کو طویل وقت گزرنے کے باوجود موت نہیں آتی۔نگران حکومت کا کام صاف شفاف انتخابات کرانا ہے۔بڑے فیصلے منتخب حکومت ہی کرسکتی ہے،سیاسی استحکام کے لئے مضبوط حکومت ہی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرسکے گی۔سینٹ انتخابات میں خرید وفروخت روکنےکے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اصلاحات کمیٹی کے چییرمین نے خوش اسلوبی سے کارروائی چلائی،کچھ ترامیم کمیٹی نے خود ہی واپس لی ہیں،کچھ ترامیم نے اس بل کو مزید بہتر بنایا ہے۔ سینیٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ سیکشن 230 کی ذیلی شق 3 پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، نگران حکومت دو یا تین ماہ کے لئے ہوتی ہے، اس کو مضبوط بنانے کے لئے اتنی تگ و دو کیوں ہو رہی ہے۔ سپیکر نے کہا کہ ترمیمی بل پر دونوں اطراف سے رائے آ چکی ہے۔ ایوان نے حکومتی ترامیم کی منظوری دی جبکہ اپوزیشن کی ترامیم کو مسترد کر دیا گیا تاہم کچھ ترامیم منظور بھی کی گئیں۔

شق وار منظوری کے بعد وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بل ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔ اس بل کی منظوری سے پریزائیڈنگ افسر نتائج فوری الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ آفیسرکوبھیجنے کا پابندہوگا، پریذائڈنگ افسر فارم 45 کی تصویر بنا کر الیکشن کمیشن کوبھیجے، انٹرنیٹ نہ ہونے پریذائیڈنگ افسر اصل نتیجہ خود پہنچانے کاپابند ہو گا، پریذائیڈنگ افسرالیکشن کی رات 2 بجے تک نتائج دینے کا پابند ہوگا، پریذائیڈنگ افسر کو تاخیر کی صورت میں ٹھوس وجہ بتائے گا، پریذائیڈنگ افسر کے پاس نتائج کیلئے اگلے دن صبح10بجے کی ڈیڈ لائن ہوگی۔

اس میں ناکامی پر ان کے خلاف فوجداری مقدمات چلیں گے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا فیصلہ 15 کے بجائے 7 روز میں کیا جائیگا۔ نئے قانون کے تحت انتخابات ترمیمی بل 2020 کی شق 10 میں حلقہ بندیاں آبادی کی بجائے یکساں ووٹ کی بنیاد پر کرنے کی ترمیم تجویز دی گئی تھی اس کو حذف کردیا گیا، حلقوں میں ووٹرزکی تعدادمیں فرق 5فیصدسے زیادہ نہیں ہوگی تاہم جہاں ضروری ہو وہاں 10 فیصد تک کرنے کی اجازت ہو۔پولنگ ڈے سے 5روز قبل پولنگ اسٹیشن تبدیل نہیں کیاجاسکے گا،انتخابی اخراجات کے لئے پہلے سے زیر استعمال بینک اکاؤنٹس بھی استعمال کئے جا سکیں گے تاہم اس کے ساتھ ایک حلف نامہ دینا ہو گا۔

سیکیورٹی اہلکار پولنگ اسٹیشن کے باہر ڈیوٹی دیں گے،ہنگامی صورتحال پر پرائیڈنگ افسر کی اجازت سے اندر آسکیں گے۔ پوسٹل بیلٹ کو شفاف بنانے کے لئے کس حلقہ میں کتنے ووٹ جاری کئے گئے ان کی تفصیل ویب سائیٹ پر اور پولنگ والے دن اس بارے آگاہ کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی 5 فیصد یا 8 ہزار ووٹ،صوبائی اسمبلی 4 ہزار ووٹ کے فرق پر دوبارہ گنتی کروائی جاسکے گی۔ الیکشن ٹربیونل میں سے ریٹائرڈ ججز کو نکال دیا گیا۔صرف حاضر سروس ججز ہی یہ خدمات سرانجام دیں گے۔ انتخابی عذرداریاں نمٹانے کے لئے 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے اس کے بعد ہر پیشی پر جرمانہ ہوگا۔6 ماہ کے بعد حکم امتناعی خارج ہوجائے گا۔ پریذائیڈنگ آفیسرزیا عملہ کی وجہ سے اگر انتخابی عمل میں تعطل آئے تو ان کے خلاف فوجداری کارروائی ہوگی۔ انتخابات میں لسانیت،صنف کی وجہ سے روکنا جرم ہے۔

ٹرانس جنڈر کو حقوق حاصل ہیں۔ وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ شق 230 کی ذیلی شق دو اور تین دو ترامیم تجویز کی گئی تھیں۔آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سیکشن ون اور ٹو میں معاشی بحران سے نکلتے ہوئے کچھ منصوبوں پر عمل ہونا ہے کچھ دوطرفہ معاہدے ہیں۔ورلڈ بنک سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے معاہدہ ستمبر میں متوقع ہے۔نگران حکومت کو کوئی اختیارات نہیں دیئے جارہے بلکہ انہیں روزمرہ امور چلانے کے کچھ اختیارات واضح کیے گئے ہیں۔سیاسی حکومت میں کابینہ میں جو منظوری ہوئیں ہیں ان میں رکاوٹ حائل نہ ہونے کے لئے کچھ ترامیم کی گئی ہیں۔

مشتاق احمد نے کہا کہ اس کو جواز بناکر نگران حکومت کو توسیع دی جاسکتی ہے۔ایازصادق نے کہا کہ ورلڈ بنک سیلاب متاثرین کے لئے ستمبر میں بورڈ میٹنگ ہونا ہے۔جس کے تحت نرم شرائط پر قرض فراہم کئے جانے ہیں۔اس سے انتخابات میں تاخیر نہیں ہوگی۔یہ باتیں بلاجواز ہیں۔ نگران حکومت کو شروع کئے گئے منصوبوں،دوطرفہ یا کثیر الجہتی منصوبوں کا اختیار ہوگا۔ستمبر میں ورلڈ بنک کے اجلاس میں پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے لئے نرم شرائط پر قرض کا معاہدہ کرنے کا اختیار نگران حکومت کو دینے کی ترمیم منظور کی گئی۔

اس بل کے تحت بورڈ یا اعزازی خدمات دینے والے افراد انتخابات میں انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر پارٹی کوکم سے کم ایک لاکھ روپے اور زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ جرمانہ ہوگاحصہ لینے کے لئے اہل ہوں گے

Advertisement
اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا، ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا، ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے

  • ایک دن قبل
پی ایس ایل بال ٹیمپرنگ: فخر زمان نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی

پی ایس ایل بال ٹیمپرنگ: فخر زمان نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی

  • 3 گھنٹے قبل
حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بڑا بم گرا دیا،ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپےفی کلو اضافہ 

حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بڑا بم گرا دیا،ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپےفی کلو اضافہ 

  • ایک دن قبل
اسلام آباد میں معروف تاجر کے قتل میں ملوث ملزمان 24 گھنٹوں میں گرفتار کرلیا،طلال چوہدری

اسلام آباد میں معروف تاجر کے قتل میں ملوث ملزمان 24 گھنٹوں میں گرفتار کرلیا،طلال چوہدری

  • ایک دن قبل
اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ:پاکستان اور چین کا مشرق وسطیٰ اور خلیج میں قیام امن کے لیے 5 نکاتی اقدام کا اعلان

اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ:پاکستان اور چین کا مشرق وسطیٰ اور خلیج میں قیام امن کے لیے 5 نکاتی اقدام کا اعلان

  • ایک دن قبل
پنجاب: اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان، ہفتے میں 4 دن کھلیں گے

پنجاب: اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان، ہفتے میں 4 دن کھلیں گے

  • 8 گھنٹے قبل
مذہب کی جبری تبدیلی پر 5 سال قید کی سزا تجویز، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بل پنجاب اسمبلی میں جمع

مذہب کی جبری تبدیلی پر 5 سال قید کی سزا تجویز، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بل پنجاب اسمبلی میں جمع

  • ایک دن قبل
وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت

وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت

  • ایک دن قبل
ایران جنگ میں ایک ماہ میں عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا نقصان

ایران جنگ میں ایک ماہ میں عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا نقصان

  • 8 گھنٹے قبل
خیبر پختونخوا: سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں 13 خوارج ہلاک

خیبر پختونخوا: سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں 13 خوارج ہلاک

  • 7 گھنٹے قبل
سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزارں روپے کا اضافہ ہو گیا

سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزارں روپے کا اضافہ ہو گیا

  • 9 گھنٹے قبل
وزیراعظم کی معاشی ، مالی اثرات سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت

وزیراعظم کی معاشی ، مالی اثرات سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت

  • 3 گھنٹے قبل
Advertisement