سائفر کیس،بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے 10،10لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کےعوض ضمانت منظور کی


سائفر کیس، سپریم کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی، سپریم کورٹ نے 10،10لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کےعوض ضمانت منظور کی، اور ریمارکس دیئے کہ سابق وزیراعظم کے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا۔
سپریم کورٹ میں سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی ،شاہ محمود کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، قائمقام چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مؤقف پیش کیا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا۔ جس پر قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ ابھی نوٹس کر دیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے مؤقف پیش کیا کہ ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لئے ہیں۔ جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے، آپ کیوں چاہتے ہیں ٹرائل جلدی مکمل نہ ہو۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف آج ہائیکورٹ میں بھی سماعت ہے۔
وکیل حامد خان نے کہا کہ دوسری درخواست فرد جرم کے خلاف ہے۔ جس پر جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ جو فرد جرم چیلنج کی تھی وہ ہائیکورٹ ختم کرچکی ہے، نئی فرد جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
وکیل حامد خان نے کہا کہ ٹرائل اب بھی اسی چارج شیٹ پر ہو رہا ہے جو پہلے تھی۔
عدالت نے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کردی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کردیا۔ جب کہ دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت جاری رہی۔
وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ سائفرکیس میں وزارت داخلہ کے سیکرٹری شکایت کنندہ ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں طلبی پر7 ماہ حکم امتناع دے رکھا ہے۔ سات ماہ تک ایف آئی اے نے خاموشی اختیار کی، اور توشہ خانہ میں ضمانت ہوتے ہی گرفتار کر لیا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کواسلام آباد میں گرفتارکرنے کی 40 مرتبہ کوشش کی گئی، ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان پر میٹنگ منٹس توڑ مروڑ کر تحریر کرنے کا الزام ہے، ایف آئی اے کےمطابق تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے، تعین کے باوجود نہ اعظم کو نہ اسدعمر کو گرفتارکیا گیا، اور اعظم خان ملزم کے بجائے سائفر کیس کے مقدمے کےاندراج کے اگلے دن گواہ بن گئے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو کیسےمعلوم ہوا کہ بنی گالا میں میٹنگ ہوئی تھی۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ایف آئی اے ہی بتا سکتا ہے، اب تک پراسیکیوشن نے ذرائع نہیں بتائے، سائفر وزارت خارجہ سے آیا، پراسیکیوشن کے مطابق سیکیورٹی سسٹم رسک پر ڈالا گیا، وزارت خارجہ نے سائفر سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی۔
سلمان صفدر نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، راناثنااللہ نے بطور وزیر داخلہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا کہا۔
جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ کیس کو قانونی تک رکھیں سیاسی طرف نہ لے کر جائیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سائفر کوڈز کی صورت میں آتا ہے، وزارت خارجہ کبھی بھی کوڈزپرمبنی سائفروزیراعظم کونہیں دیتا، وزارت خارجہ وزیراعظم کو سائفر کا ترجمہ یا بریفنگ دیتی ہے۔
وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سائفر کوڈز ہر ماہ تبدیل ہوتے ہیں، سائفر کا انگریزی ترجمہ متعلقہ لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ پراسیکویشن کاکیا کہنا ہےسائفرکس کیساتھ شیئر کیا گیا۔ وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ سائفر کسی کے ساتھ کبھی شیئر نہیں کیا گیا، جلسے میں کہیں نہیں کہا کہ سائفر میں کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں رکھنے سے معاشرے کو کیا خطرہ ہوگا۔ جس پر وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ دفعہ 164 کا بیان ملزم کا اعترافی بیان ہوتا ہے، اعظم خان کے اہلخانہ نے انکی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا، اعظم خان دوماہ لاپتہ رہے، یہ اغواء برائے بیان کا واقعہ ہے۔
قائمقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اغواء برائے تاوان تو سنا تھا اغواء برائے بیان کیا ہوتا ہے۔ جس پر وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میرے لئے سب سے آسان الفاظ اغواء برائے بیان کے ہی تھے۔
قائمقام چیف جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیئے کہ اغواء برائے بیان ابھی اصطلاح ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پرتحقیقات کیں۔ جس پر وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ اعظم خان کا بیان دباؤ کا نتیجہ ہے تفتیشی افسر نے کوئی تحقیقات نہیں کیں، اعظم خان نے واپس آتے ہی سابق وزیراعظم کے خلاف بیان دے دیا۔
وکیل سلمان صفدر پریڈ گراونڈ میں 27 مارچ 2022 کے جلسے میں شاہ محمود قریشی کی تقریر پڑھ کر دی اور کہا کہ شاہ محمود قریشی نے تقریر میں کہا کہ بہت سے راز ہیں لیکن حلف کی وجہ سے پابند ہوں سامنے نہیں رکھ سکتا۔
قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ وزیرخارجہ خود سمجھدار تھا سمجھتا تھا کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں، وزیر خارجہ نے سائفر کا کہا کہ بتا نہیں سکتا اور سابق چیٸرمین کو پھنسا دیا کہ آپ جانیں اور عمران جانے، شاہ محمود خود بچ گئے اور سابق چیٸرمین پی ٹی آٸی کو کہا کہ سائفرپڑھ دو۔
وکیل سلمان صدر نے کہا کہ چیٸرمین پی ٹی آٸی نے بھی پبلک سے کچھ شئیرنہیں کیا تھا، اگر سائفر پبلک ہو ہی چکا ہے تو پراسیکیوشن کو سائفر ٹرائل ان کیمرہ کیوں چاہیے۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پرپراسیکیوشن سمجھتی ہے کہ ملزمان کوزیرحراست رکھنا ضروری ہے۔ جس پر وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ اعظم خان نے بیان دیا کہ سابق وزیراعظم سے سائفر مانگا تو انہوں نے کہا گم گیا ہے، سابق وزیراعظم نے ملٹری سیکرٹری کو بھی سائفر تلاش کرنے کا کہا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اعظم خان کے بیان میں واضح ہے کہ وزیراعظم کے پاس موجود دستاویز سائفر نہیں تھی۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے کہا ان کی موجودگی میں ہی بنی گالہ میں وزارت خارجہ نےبریفننگ دی۔
قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق نے استفسار کیا کہ سیکرٹری خارجہ ملزم ہیں یا گواہ؟۔ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس وقت کے سیکرٹری خارجہ گواہ ہیں۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ وزارت خارجہ نے 17 ماہ تک سائفرکی کاپی وزیراعظم سے نہیں مانگی، اعظم خان کے مطابق سابق وزیراعظم عسکری قیادت پر دباؤ ڈالنا چاہتے تھے، اعظم خان نے کہا بنی گالہ میٹنگ کے بعد سائفر کو پبلک میں لہرانے کا فیصلہ ہوا، جس جلسے میں کاغذ لہرایا گیا وہ میٹنگ سے ایک دن پہلے ہوچکا تھا۔
وکیل سلمان صفدر نے سابق سفیر اسد مجید کا بیان بھی پڑھ کر سنا دیا، اور سوال اٹھایا کہ اگر کچھ غلط نہیں ہوا تھا تو امریکی سفیر کو بلا کر احتجاج کیوں کیا گیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھایا کہ کس بنیاد پر پراسیکیوشن سمجھتی ہے کہ ملزمان کو زیرحراست رکھنا ضروری ہے۔
عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا۔ وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وکیل سلمان صفدر نے مؤقف پیش کیا کہ سابق وزیراعظم کوسیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، چالیس مقدمات میں ضمانت قبل ازگرفتاری منظور ہوچکی ہے، کسی بھی سیاسی لیڈرکیخلاف ایک شہرمیں چالیس مقدمات درج نہیں ہوئے۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم ریاستی دشمن نہیں بلکہ سیاسی دشمن ہیں، سابق وزیراعظم نے خط کے مندرجات کسی سے شیئر نہیں کیے، امریکی سفیر کو بلا کر کہا گیا احتجاج غلط ہے یا پھر سائفرکا مقدمہ، شہباز شریف نے بھی قومی سلامتی کونسل کے نکات کی توثیق کی تھی۔
سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل مکمل کر لئے تو شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے دلائل کا آغاز کردیا۔
وکیل علی بخاری نے مؤقف پیش کیا کہ شاہ محمود قریشی پر سائفر رکھنے کا الزام ہے نہ شیئر کرنے کا، ان پر واحد الزام تقریر کا ہے، اور الزام کا جائزہ عدالت پہلے ہی لے چکی ہے، شاہ محمود قریشی 10دن ریمانڈ پر رہے، کوئی برآمدگی نہیں ہوئی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا شاہ محمود قریشی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ جس پر وکیل علی بخاری نے کہا کہ وہ آج کاغذات جمع کرائیں گے۔ جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینا ہی ضمانت کیلئے اچھی بنیاد ہے۔
پراسیکویٹر رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس اطہر من اللہ سائفرکی ایک ہی اصل کاپی تھی جودفترخارجہ میں تھی۔

وزیر اعظم سے آذری صدر الہام علیوف کا ٹیلیفونک رابطہ،دو طرفہ تعلقات اور باہمی امور پر تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

روس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’سرمات‘ کا کامیابی سے تجربہ کر لیا
- ایک دن قبل

پائیدارترقی کیلئےماحول دوست توانائی اور قابل تجدید ذرائع استعمال میں لانا ترجیحات میں شامل ہے،شہبازشریف
- ایک دن قبل

میری اولین ترجیح خواتین کے لیے ایک محفوظ پنجاب بنانا ہے،مریم نواز شریف
- 2 دن قبل
پاکستان کا بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
- 16 گھنٹے قبل

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے "پنجاب فلم سٹی اتھارٹی بل 2026" کی توثیق کر دی
- 2 دن قبل

وزیر اعظم کی کسانو ں کو بروقت کھاد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات
- 2 دن قبل

بارکھان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں سکیورٹی فورسزکے 5 اہلکار شہید،7 دہشتگرد بھی ہلاک
- 8 گھنٹے قبل

سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 30کروڑڈالرکی قسط موصول
- 16 گھنٹے قبل

یقین ہے ایران یورینیم کی افزودگی 100 فیصد روک دے گا، معاہدے کیلئے کام کر رہے ہیں،ٹرمپ
- ایک دن قبل

عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر سٹائلسٹ آمنہ انعام پاکستان پہنچ گئیں، ثقافتی وسماجی تقریبات میں ہونگی
- 2 دن قبل

بلوچستان کی ترقی و خوشحالی اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- ایک دن قبل









