جی این این سوشل

صحت

میرپورخاص کے گندے پانی میں پولیو وائرس کا انکشاف

اس سال ضلع میر پور خاص میں پولیو وائرس کا پہلا مثبت نمونہ سامنے آیا ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

میرپورخاص کے گندے پانی میں پولیو وائرس کا انکشاف
میرپورخاص کے گندے پانی میں پولیو وائرس کا انکشاف

صوبہ سندھ کے علاقے میرپورخاص کے گندے پانی میں پولیو وائرس ہونےکا انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق 2 اپریل کو میر پور خاص سے لیا گیا نمونہ نیشنل انسٹیٹیوٹ اسلام آباد بھیجا گیا تھا۔

محکمہ صحت نے بتایا کہ اس سال ضلع میر پور خاص میں پولیو وائرس کا پہلا مثبت نمونہ سامنے آیا ہے۔

اس حوالے سے ڈی ایچ او ڈاکٹر جے رام نے کہا کہ ضلع پولیو سے پاک ہے، پولیو سےمتعلق ماحولیاتی معائنہ چلتا رہتا ہے، وائرس کراچی میں ملنے والےنمونے سے ملتا جلتا ہے۔

یاد رہے کہ حکام کے مطابق اپریل میں ملک بھر کے 10 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

حکام نے بتایا تھا کہ کراچی کے ضلع کیماڑی، حیدرآباد اور جامشورو کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ سکھر اور جیکب آباد کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس پایا گیا ہے۔

پاکستان

شہید بےنظیر بھٹو کی آج 71ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر صوبائی حکومت کے تحت تمام تر ضلعی ہیڈ کوآرٹرز میں تقریبات منعقد ہوں گی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شہید بےنظیر بھٹو کی آج 71ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی آج 71 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر صوبائی حکومت کے تحت تمام تر ضلعی ہیڈ کوآرٹرز میں تقریبات منعقد ہوں گی۔

تقریبات میں پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا جبکہ کراچی میں جلسہ بھی منعقد کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو آج لیاری میں کارکنان کے ہمراہ والدہ کی سالگرہ منائیں گے۔

21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہونے والی بے نظیر بھٹو عالمی اور ملکی سیاست میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھنے والی شخصیت تھیں۔

بے نظیر بھٹو نے ریڈ کلف کالج اور ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات، اقتصادیات اور فلسفے میں ڈگریاں حاصل کیں۔

شہید بے نظیر بھٹو اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی لاڈلی بیٹی ہونے کی وجہ سے بچپن میں ہی اپنے والد کے ساتھ غیرملکی دوروں پر جایا کرتی تھیں۔

1982 میں بے نظیر بھٹو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں، جلاوطنی کے بعد وہ 1986 میں پہلی بار جب لاہور پہنچیں تو ان کا تاریخی استقبال ہوا اور انہوں نے ملک بھر کا دورہ کیا۔

1987 میں بے نظیر بھٹو کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی ۔ 1988 میں عام انتخابات کے دوران بے نظیر بھٹو نے تاریخی کامیابی حاصل کر کے پاکستان کی وزیراعظم کی حیثیت سے بھاگ دوڑ سنبھالی ۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو 7 اگست 1990 میں صدر اسحاق خان نے بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے برطرف کر دیا جس کے بعد 1993 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن گئیں۔

1996 میں پیپلز پارٹی کے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے بے امنی اور بد عنوانی، کرپشن کے باعث بے نظیر کی حکومت کو پھر سے برطرف کر دیا۔

بعدازاں 19 اکتوبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کراچی واپس آئیں جہاں ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تاہم حملے میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئی تھیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، وکیل عمران خان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

دورانِ عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ جس پر جج افضل مجوکا نے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں۔

بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سے استفسار کیا کہ دو سوالوں کے جواب دے دیں، اس کیس میں سزا مختصر نہیں ہے ، اس لیے مختصر دورانیے کی سزا سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، سپریم کورٹ کی دو ججمنٹس ہیں ان میں سے ایک آپ کے حق میں ہے اور ایک آپ کے خلاف تو آپ کس ججمنٹ کو فالو کریں گے ؟

اس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری مخالفت میں کوئی بھی ججمنٹ موجود نہیں ہے، جج افضل مجوکا کا کہنا تھا کہ آپ کے خلاف ایک ججمنٹ موجود ہے، وکیل نے بتایا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر عدالت عمل کرے گی، 1985 کی آئینی ترمیم کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ فائنل اتھارٹی ہے ، شریعت کورٹ کے قیام سے پہلے کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دیا جاسکتا ، یہ نہیں ہوسکتا کہ تقی عثمانی نے فیصلہ لکھا ہے تو اسے سائڈ پر رکھ دیں ، اسلام میں ایک اصول ہے کہ عورت کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، خاتون کے بیان کو حتمی مانا جائے گا، عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد میں ہم نہیں جھانکیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے میں عورت پر کوئی بھی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ، اعلیٰ عدلیہ نے سارا قصور پراسیکیوشن پر ڈالا کہ انہوں نے عورت کا بیان نہیں لیا، عدالت نے اس بنیاد پر مقدمہ خارج کردیا تھا کہ عدت کے 39 دن گزر گئے۔

اس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ اس عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط نہیں کہا جا سکتا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم فیملی لاء میں عدت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ، چیئرمین یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس جانے کے بعد 90 دن گزرنے چاہئیں ، اس کیس میں ہر کوئی مان رہا کہ طلاق تو بہرحال ہوگئی ہے، عدت کا تصور شرعی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ فراڈ کون کررہا ہے؟ کس کے ساتھ کررہا؟ دو فریقین موجود ہیں جن میں سے ایک فراڈ ہوگا، جج افضل مجوکا نے دریافت کیا کہ 496 بی میں تو سزا نہیں ہوئی؟

سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ 496بی ختم کردیا گیا تھا، سزا کی بات نہیں، فردجرم بھی 496 بی میں عائد نہیں ہوا، 496 بی میں دو گواہان ہونے لازم ہیں جو سامنے نہیں آئے، خاور مانیکا کے مطابق 14 نومبر 2017 میں تین بار تحریری طلاق دی گئی، ہمارے مطابق اپریل 2017 میں بشریٰ بی بی، خاور مانیکا کی طلاق ہوئی، بشریٰ بی بی طلاق کے بعد اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں، چار ماہ وہاں رہیں، بشریٰ بی بی کو دوران ٹرائل اپنا مؤقف سامنے نہیں رکھنے دیا گیا۔

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ پورا مقدمہ شادی کے ایونٹ پر بنایا گیا ہے، اگر سیکشن 7 کی خلاف ورزی ہوتی بھی تب بھی کرمنل کیس نہیں چلایا جا سکتا ہے، جب چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوا تو طلاق کا آئیڈیا نہیں لگایا جا سکتا کہ کب ہوئی، ان کے مطابق 14 نومبر 2017 کو ہوئی اور ہمارا مؤقف ہے کہ طلاق اپریل 2017 کو ہوئی، ایک لمحے کے لیے کہانی 14 نومبر سے شروع کر لیتے ہیں ، 14 نومبر کو اگر دی ہے طلاق تو 90 دن والا تعلق ختم ہوتا ہے کیونکہ چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوئے، فیملی لا کے سیکشن 7 میں عدت کا کوئی ذکر نہیں ہے ، سپریم کورٹ نے 90 دنوں کا شادی سے تعلق ختم کردیا، نوٹس کا جواز ہی نہیں، عدالت نے دیکھنا ہے اسلامی شریعت عدت کے حوالے سے کیا کہتی ہے؟ شہنشاہ عالمگیر کے دور کے فتوے کو شریعت عدالت نے اپنا حصہ بنایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر مرکزی اپیل پر فیصلہ کرنا ہو تو سزا معطلی پر فیصلہ نہ بھی کریں تو مسئلہ نہیں ہوتا، اس کیس میں ہائی کورٹ نے ڈائریکشن دی ہے کہ سزا معطلی اور مرکزی اپیلوں پر ٹائم فریم کے مطابق فیصلہ دینا ہے، شوہر کی وفات کے بعد عورت کو وراثت کی محرومی سے بچانے کے لیے عدالت نے عدت کا دورانیہ 90 دن ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔

سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ قانون کا مقصد عورت کو سہارا دینا ہے، میں سزا معطلی کے ساتھ ساتھ اپیل پر بھی معاونت کرنا چاہوں گا، مجھے معلوم ہے آئندہ پندرہ روز میں عدالت نے سزا معطلی کی اپیل پر فیصلہ کرناہے۔بعد ازاں سلمان اکرم راجا نے مفتی سعید کے انٹرویو کی کاپی بذریعہ یو ایس بی عدالت میں جمع کروا دی۔

وکیل نے کہا کہ مفتی سعید نے اقرار کیا کہ نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیا، یکم فروری کو گواہی شروع ہوئی، دو فروری کو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنادیا۔

جج افضل مجوکا نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 2 روز میں فیصلہ دے دیا؟ وکیل نے بتایا کہ ہم 14، 14 گھنٹے دو روز کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ نے کہا آج ہی سب کریں، ٹرائل کورٹ نے کہا گواہ، دلائل، سب آج کریں، فیصلہ سنانا ہے، رات 12 بجے تک اڈیالہ جیل میں کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ کا اعلان جنگ تھاکہ 3 فروری کو ہی فیصلہ سنانا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ آپ نے کبھی کسی وکیل کو کہا ہےکہ رات 11 بجے دلائل دیں؟

اس کے بعد خاور مانیکا کا انٹرویو کو کمرہ عدالت میں چلایا گیا۔عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ انٹرویو میں اینکر نے بھی سابقہ کا لفظ استعمال کیا، خاور مانیکا نے بھی سابقہ اہلیہ کہا، ٹرائل کورٹ میں خاورمانیکا نے جھوٹ بولاکہ انٹرویو دیتے وقت بشریٰ بی بی سابقہ اہلیہ نہیں تھیں، خاورمانیکا ایک جھوٹا شخص ہے، عدالت میں جھوٹ بولا۔

اس پر وکیل شکایت کنندہ زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ خاورمانیکا کے ساتھ ذاتیات پر نہ اتریں، خاورمانیکا کہیں جھوٹے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

وکیل عمران خان نے بتایا کہ خاورمانیکا نے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا روحانی تعلق تھا، شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، خاور مانیکا کو گرفتار کیا گیا، 4 ماہ جیل رہے، 14 نومبر کو جیل سے باہر آئے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی، جو لوگ چِلے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، میں مفتی سعید کا جھوٹ بھی عدالت کے سامنے لانا چاہتا ہوں، مفتی سعید کے لیے میرے پاس جھوٹ کے علاوہ اور کوئی شائستہ لفظ نہیں۔

بعد ازاں بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے، سماعت سوموار تک ملتوی کرنی ہے تو میں سوموار کو دلائل دوں گا، آج سلمان اکرم راجا اپنے دلائل دے رہے ہیں۔

اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ سوموار کو سماعت کرنا ممکن نہیں ہے، منگل کو سماعت کریں گے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

منشیات کی ترویج کا الزام، سعودی عرب میں 2 پاکستانی گرفتار

ملزمان کے قبضے سے 26 کلو گرام منشیات برآمد کر لی گئی، قانونی کارروائی کا آغاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

منشیات کی ترویج کا الزام، سعودی عرب میں 2 پاکستانی گرفتار

سعودی عرب میں انسداد منشیات حکام نے دارالحکومت ریاض سے 2پاکستانی باشندوں کو منشیات کی ترویج کےالزام میں گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 26 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی ہیں۔

جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول نے ریاض کے علاقے میں پاکستانی شہریت کے حامل دو باشندوں کو 26 کلو گرام منشیات میتھم فیٹامائن (شبو) کی ترویج پر گرفتار کیا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی اور انہیں پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔

سعودی عرب کے ادارہ برائے انسداد منشیات نے شہریوں پر غیرملکی تارکین وطن پر زور دیا ہے کہ وہ منشیات کے دھندے میں ملوث عناصر یا کسی غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی پر مکہ مکرمہ، ریاض، اور الشرقیہ کے علاقوں میں 911ہیلپ لائن اور ملک کے دیگر علاقوں میں 999 اور 996 پر مجاز حکام کو اطلاع دیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll