جی این این سوشل

صحت

پاکستان کے شعبہ صحت کا اعزاز ، ڈاکٹر شہزاد بیگ کا نام 100 عالمی رہنماؤں کی فہرست میں شامل

ڈاکٹر شہزاد بیگ پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام کے نیشنل کوآرڈینیٹر ہیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان کے شعبہ صحت کا اعزاز ، ڈاکٹر شہزاد بیگ کا نام 100 عالمی رہنماؤں کی فہرست میں شامل
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان کو شعبہ صحت میں ایک اور اعزاز حاصل ہوگیا، ڈاکٹر شہزاد بیگ کا نام 100 عالمی رہنماؤں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

ٹائم میگزین کی 2024ء کی عالمی رہنماؤں کی فہرست میں ڈاکٹر شہزاد بیگ کا نام شائع کیا گیا ہے۔ڈاکٹر شہزاد بیگ پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام کے نیشنل کوآرڈینیٹر ہیں۔ عالمی سطح پر یہ نامزدگی ڈاکٹر شہزاد بیگ کی قیادت اور پولیو کے خاتمے کے لیے کی گئی کوششوں کا اعتراف ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر شہزاد بیگ واحد پاکستانی ہیں جنہیں اس فہرست میں شامل کیا گیا گیا ہے۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے ٹیم کی قیادت کرنے سے قبل ڈاکٹر شہزاد بیگ نائجیریا میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے لیے ٹیکنیکل ایڈوائزر کے طورپر خدمات سرانجام دے چکے ہیں، ان کی کوششوں کی وجہ سے نائجیریا کو 2020 میں پولیو سے پاک قرار دیا گیا ہے۔

ٹائم میگزین نے ڈاکٹر شہزاد بیگ کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں حکومت نے صرف ایک سال میں 9 کروڑ سے زائد بچوں کو ٹیکہ لگانے کے لیے 4 لاکھ ویکسی نیٹرز اور 80 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔

 

 

پاکستان

آزاد کشمیراسمبلی میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کر دیا گیا

بجٹ کا حجم 264 ارب 3 کروڑ 30 لاکھ روپے رکھا گیا ہے،وزیرخزانہ عبدالماجد خان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آزاد کشمیراسمبلی میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کر دیا گیا

آزاد کشمیراسمبلی میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کیا جارہا ہے، وزیرخزانہ عبدالماجد خان بجٹ پیش کیا۔

وزیر خزانہ آزاد کشمیر نے بتایا کہ بجٹ کا حجم 264 ارب 3 کروڑ 30 لاکھ روپے رکھا گیا ہے، جبکہ اخراجات کا تخمینہ 2 کھرب 20 ارب 3 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ کے لیے 42 ارب اور غیر ترقیاتی بجٹ کے لیے 190 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ میں 30 ارب وفاقی حکومت اور 12 ارب اپنے وسائل سے حاصل کیے جائیں گے۔ گزشتہ مالی سال کی نسبت ترقیاتی بجٹ میں47 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق تعلیم کا بجٹ 2 ارب سے بڑھا کر 4 ارب روپے مختص کیا گیا ہے جبکہ صحت کے لیے 1.8 ارب سے بڑھا کر 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں لوکل گورنمنٹ کا بجٹ 2 ارب 80 کروڑ سے بڑھا کر 3 ارب 70 کروڑ کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبوں کا بجٹ 10 کروڑ سے بڑھا کر 15 کروڑ رکھا گیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

فیصلہ 27 جون کو سنایا جائے گا جبکہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی  سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ،27 جون کو سنایا جائے گا جبکہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کے جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا  معطلی اورمرکزی ایپلوں پرسماعت کی جس سلسلے میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے دلائل دیئے۔

زاہد آصف نے سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر تے ہوئے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل کنندگان کا کیس سزا معطلی کا ہے یا نہیں، اپیل کنندہ کے وکلا نے خاور مانیکا کیلئےجھوٹا شخص کے الفاظ استعمال کیے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ مفتی سعید، خاورمانیکا، عمران خان اور بشری بی بی میں سے جھوٹا کون ہے؟

وکیل نے کہا کہ جو انٹرویو چلایا گیا ہے اس کے حقائق توڑ موڑ کر پیش کیے گئے، خاور مانیکا کے بیٹے نے اسی انٹرویو میں کہا بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشریٰ بی بی سے نہیں ہوا،یہ جھوٹا الزام ہے۔

دوران سماعت جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے کہا کہ اپیل کنندگان کہتے ہیں چلہ کروایا گیا جس کے بعد شکایت دائر ہوئی اس پر بتائیں، بدنیتی کا تعلق حالات و واقعات سے ہوتا ہے، کیا گرفتاری کے بعد ایسے حالات نہیں تھے؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی نہیں ایسے حالات نہیں تھے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔

جج نے سوال کیا جب شکایت واپس لی گئی تو کیس بریت کا بنتا ہے جج صاحب نے کیا لکھا؟ کیا جو پہلے والی شکایت واپس لی گئی تو چارج فریم ہوا تھا کہ نہیں، اور اس کیس میں فراڈ کیا ہوا یہ بتائیں؟ کیا کوئی پریشر یا دھمکی تھی کہ خاور مانیکا اگر شکایت درج کریں گے تو نتائج ہوں گے؟

اس پر وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں نے وہ فیصلہ نہیں پڑھا مگر اس کی ضرورت نہیں تھی، دھرنا اور بانی پی ٹی آئی کے وزیراعظم بننے کے حالات سامنے ہیں، کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہو وہ وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے؟

عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ میں سزا معطلی کی درخواست پر 7 منٹ دلائل دوں گا، شکایت کنندہ کو اس سے کم وقت میں بھی دلائل دینے چاہیے، آج مرکزی اپیل اور سزا معطلی کی اپیل زیر سماعت ہے، میری ذمہ داری عدالت کو بتانا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کون ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ان اپیلوں پر پہلے 15 سے زائد سماعتیں 3 ماہ میں ہوچکی ہیں، اس کیس میں کبھی شکایت کنندہ اور کبھی پراسیکیوشن نے کہا کیس پڑھنا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیس میں کچھ نہیں، مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیسے دیتے ہیں۔

اس موقع پر وکیل زاہد آصف کا کہنا تھا کہ سلمان صفدر ایک قابل وکیل ہیں اور ہر جگہ ان کی تعریف کی۔

بعد ازاں سلمان صفدر نے کہا کہ اپیل کنندہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، الیکشن سے قبل عمران خان کو سزا سنائی گئی، عمران خان کے خلاف بے شمار کیسز بنائے گئے ہیں، عمران خان کے کیسز سے میں نے بہت کچھ سیکھا، ایسی یونیک پراسیکیوشن میں نے آج تک نہیں کی، متعدد کیسز عدالتوں نے اڑا دیئے، سائفر کیس ،توشہ خانہ کیس ،پھر نکاح کیس میں سزا دی گئی جیسے سینما کی اسکرین کا ٹائم، مجھے اس کیس کے شکایت کنندہ سے بھی ہمدردی ہے، سائفر کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا تو عدالت نے کہا مرکزی اپیل سنیں یا سزا معطلی کی، میں نے کہا مرکزی اپیل ورنہ میرے لیے آسان تھا سزا معطلی پر دلائل دیتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سائفر کیس کا ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا مگر اپیل دائر کردی گئی، ٹرائل میں ہمارے وکلا کو باہر نکالا گیا، دیر تک سماعتیں چلیں، ہائی کورٹ کے لیے آسان تھا کیس ریمانڈ بیک کرنا مگر نہیں ہوا، میرٹ پر فیصلہ ہوا، سائفر کے پاس توشہ خانہ کیس سامنے آیا، اس کیس میں بھی دوسرے طرف کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا، مجھے امید ہے آج بھی دوسری طرف کے وکیل یہی کریں گے، سیشن جج شاہ رخ ارجمند کے پاس بھی مرکزی اپیلیں اور سزا معطلی کی درخواستیں آئی، جب فیصلہ آنا تھا تو ریفرنس بن جاتا ہے اس کے بعد کیس آپ کے پاس آتا ہے

بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ مجھے نہیں معلوم عدالت نے کیا فیصلہ کرنا ہے مگر جو بھی فیصلہ آیا میں سن کر چلا جاؤں گا، مجھے اختلاف ہوگا تو میں اپیل میں چلا جاوں گا، سلمان اکرم راجا نے ٹھیک کہا تھا کہ میں اس کیس میں پیش ہوتا رہا مجھے فیصلہ چاہیے، اگر اپیلیں ڈسٹرکٹ کورٹس میں زیر سماعت ہوں تب بھی ہائی کورٹ کے پاس سزا معطلی کے اختیارات ہیں، میری کوشش تھی بشریٰ بی بی عید سے پہلے گھر آجاتیں ، سلمان اکرم راجا صاحب کا کہنا تھا کہ وہی جج فیصلہ کریں جنہوں نے کیس سنا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ جب ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں گئے تو ایک ایک چیز بتائی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ مکمل طور پر آگاہ ہے کہ نیچے کیا چل رہا ہے، شکایت کنندہ بار بار تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 10 روز میں سزا معطلی اور 30 دن میں مرکزی اپیلوں پر فیصلے کا کہا ہوا ہے، جب سزا دینی ہو تب فٹا فٹ اور اپیل پر دھیرے دھیرے؟

بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو  27 جون کو دن 3 بجے سنایا جائے گا۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنالوجی

گوگل کا جی میل میں بھی اے آئی فیچر متعارف کرانے کا اعلان

جی میل میں اے آئی کی بدولت اب ای میل کی اندرونی چیدہ معلومات بھی با آسانی اخذ کی جا سکتی ہیں، گوگل 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گوگل کا جی میل میں بھی اے آئی فیچر متعارف کرانے کا اعلان

گوگل نے جی میل میں بھی اے آئی فیچر متعارف کرانے کا اعلان کر دیا۔ جی میل میں اے آئی کی بدولت اب ای میل کی اندرونی چیدہ معلومات بھی با آسانی اخذ کی جا سکتی ہیں

گوگل کی حالیہ اپڈیٹ کے بعد اب صارفین کو ای میل کی لمبی لائنز اور ان میں سے معلومات اخذ کرنے کی کھپت سے چھٹکارہ مل جائے گا۔ جیمنائی سسٹم کی اشتراکیت سے اب جی میل کے اندرونی مواد سے بھی باآسانی مطلوبہ معلومات اخذ کی جا سکتی ہیں۔ 

گوگل کے مطابق جی میل میں شامل کیا گیا اے آئی سسٹم صارفین کو یہاں تک بھی معلومات نکال کے دے سکتا ہے کہ آپ کی کون سی میٹنگ کب ہوئی، آپ کی کمپنی نے اپنے ایونٹ میں کتنا خرچہ برداشت کیا، اور آپ کو بزریعہ ای میل موصول ہوا کوڈ نمبر کیا تھا۔ مزید یہ کہ جیمنائی اے آئی سسٹم ایک تھریڈ میں موجود ای میلز کے کانٹینٹ کے اہم نکات کا خلاصہ نکال کے دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

موبائل فون کی جی میل ایپ میں بھی اے آئی فیچر فعال کر دیاگیا ہے۔ ویب کی طرح موبائل ایپ میں بھی اے آئی کے تمام فیچرز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ویب میں اے آئی ٹیب سائیڈ پینل کے طور پر موجود ہے، جبکہ موبائل ایپ میں بھی نیچے کی جانب اے آئی کا آپشن فعال ہے۔ 

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll