طلبہ سے نارمل فیس 8 ہزار اور لیٹ فیس 12 ہزار روپے وصول کئے جا رہے ہیں جس کے مطابق پی ایم ڈی سی ایم ڈی کیٹ طلباء سے 10 گنا زیادہ فیس وصول کر رہا ہیں، کے پی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن


پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل(پی ایم ڈی سی) کا ایم ڈی کیٹ رجسٹریشن فیس سے اربوں روپے کمانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایم ڈی کیٹ فیس سے متعلق خیبر پختونخوا ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر اسفندیار کا کہنا ہے کہ طلبہ سے نارمل فیس 8 ہزار اور لیٹ فیس 12 ہزار روپے وصول کئے جا رہے ہیں جس کے مطابق پی ایم ڈی سی ایم ڈی کیٹ طلباء سے 10 گنا زیادہ فیس وصول کر رہا ہیں جو کہ طلباء کے ساتھ زیادتی ہے، بہت سارے بچے غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہے اور فیس برداشت نہیں کر سکتے اور فیس نہ دینے کی وجہ سے ٹیسٹ سے رہ جاتے ہے۔ پی ایم ڈی سی کو طلباء کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا لوٹنے کے لیے نہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ایم ڈی کیٹ کا حصہ بننے والی طالبہ مرینہ کا کہنا ہے کہ کئی طلباء اس لئے ٹیسٹ نہیں دے پاتے کیونکہ انٹری فیس کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے، ہم بہت محنت سے انٹر تک پڑھتے ہے تا کہ ایم ڈی کیٹ دے سکے لیکن ٹیسٹ کی انٹری فیس ہی اتنی زیادہ ہے کہ ہر کوئی ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا جبکہ ہم سے جتنی فیس وصول کی جاتی ہے ٹیسٹ کے دوران اس کے مطابق سہولیات فراہم نہیں کی جاتی ہے۔طلباء کو ریلیف دینے کے لئے ایم ڈی کیٹ کی انٹری فیس میں کمی کی جائے۔
ایگزیکٹو ڈائرکٹر ایٹا امتیاز ایوب کا ایم ڈی کیٹ سے متعلق کہنا تھا کہ ایٹا کے تحت منعقد ہونے والا گزشتہ ایم ڈی کیٹ میں 46 ہزار طلبا نے حصہ لیا تھا ۔ جس میں فی طالب علم کا خرچہ 1 ہزار روپے سے کم تھا پی ایم ڈی سی کی جانب سے ایٹا کو ٹیسٹ کے انعقاد کے لئے 46 لاکھ روپے دئیے گئے تھے، جبکہ ٹیسٹ فیس کی مد میں 46 ہزار طلباء سے وصول ہونے والے 3 کروڑ 60 لاکھ پی ایم ڈی سی اور کے ایم یو کے پاس گئی۔
گزشتہ سال کی نسبت پی ایم ڈی سی کی جانب سے ایم ڈی کیٹ کی فیس میں دو ہزار روپے اضافہ کیا گیا جس کے بعد ٹیسٹ کی فیس 6 ہزار سے بڑھ کر 8 ہزار ہوگئی تھی اس سلسلہ میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے ایم ڈی کیٹ کی فیس میں کمی کے لیے پی ایم ڈی سی کو خط بھی لکھا ہے۔
ایم ڈی کیٹ فیس کے معاملے پر وی سی خیبر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر ضیاع الحق کا کہنا تھا کہ امیدواروں سے ٹیسٹ کی تمام رقم پی ایم ڈی سی وصول کرتا ہے۔ کے ایم یو کا کام پی ایم ڈی سی کے تحت ٹیسٹ منعقد کرانا ہے،جیتنا خرچہ ٹیسٹ پر ہوتا ہے پی ایم ڈی سی سے ہمیں اتنا ہی ملتا ہے۔
رجسٹرار پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ڈاکٹر شائستہ فیصل نے ٹیسٹ فیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ کنڈکٹ کرانے پر جو خرچہ آتا ہے وہی طلبہ سے وصول کرہے ہیں چونکہ ٹیسٹ کنڈکٹ کرانے کے لیے دو ماہ قبل کام شروع ہوتا ہے جس میں امتحانی مراکز، سٹاف، پرچے، پیپرز بینک، ٹرانسپورٹ پر بھی بھاری خرچہ آتا ہے، جس کے تمام اخراجات امیدواران سے ملنے والے فیس سے پورے کرتے ہے ۔
رپورٹ: علشبہ خٹک رپورٹرجی این این پشاور
اداکارہ ہنی خان نے خود پر ہونیوالی تنقید کا جواب دے دیا
- 19 hours ago
پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 افسران و اہلکار معطل
- 20 hours ago
وفاقی تعلیمی بورڈ: انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور ٹوکے نتائج کا اعلان
- a day ago

ملک میں سونے فی تولہ قیمت میں معمولی کمی
- 6 hours ago
پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مسترد، سینیٹر ڈاکٹر زرقا کا اضافہ فوری واپسی کا مطالبہ
- 19 hours ago

پاکستان کا سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور خوشحالی کے لیے حمایت کا اعادہ
- 30 minutes ago
وزیراعلیٰ پنجاب کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب کی تاریخ کا اعلان
- a day ago
بنگلادیش میں خسرہ وبا شدت سے پھیل گئی
- a day ago
پھر ناقص کارکردگی: تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان انگلینڈ کیخلاف پہلی اننگزمیں133 رنز بناکر آؤٹ
- a day ago

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
- 2 days ago
کرکٹرزامام الحق اور محمد رضوان کےموبائل فونز ظبط، وجہ سامنے آگئی
- 6 hours ago

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
- a day ago








