Advertisement
پاکستان

پاکستانی و اسلامی معاشرے کی سوچ میں نفسیاتی تناؤ ہے

ہمیں اپنے دکھ تو سمجھ میں آتے ہیں تو پھر کیوں  کسی اور کے دکھ سمجھ میں نہیں آتے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Aug 25th 2024, 5:17 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاکستانی و  اسلامی معاشرے  کی سوچ میں  نفسیاتی تناؤ ہے

ہر معاشرے کے اندر بہت سارے افکار و نظریات ہوتے ہیں۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہ خالصتاً ایک اسلامی معاشرہ ہے جس میں مختلف نظریات کے حامل لوگ موجود ہیں۔ جہاں لفظ ”معاشرہ“ (Society) آئے گا وہاں آپ کو ایک دوسرے سے مختلف سوچ (Thinking)  اور نظریات  رکھنے والے لوگ ملیں گے۔ کسی بھی معاشرے میں بہت ساری کمزوریوں کے ساتھ اگر محدود(limited) اور تنگ نظر (narrow)سوچ ہو تو میں اسے اس معاشرے (Society) کا المیہ کہوں گا۔ مجھے فکر ہے تو اس بات کی کہ اس معاشرتی برائی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا  رہا ہے۔ تنقید پر اپنی اصلاح کی ضرورت اور فکر قریباً ہوتی جا رہی ہے ۔ تعمیری افکار کو اپنانا اور وسعت دینا ہم بالکل بند کرچکے ہیں ۔ معاشرے کی اس زبوں حالی پرکافی دنوں سے کچھ لکھنے کا ارادہ تھا۔ تاہم آج یہ موقع ملا اور اس موضوع کا انتخاب کیا تاکہ معاشرے کے ہر اجمالی زاویے پر سیر حاصل بحث ہو سکے۔ گفت و شنید اور اظہارِ رائے کے مزید در کھل سکیں۔

کبھی سوچا ہے کہ ہمارا ایک جملہ (Troll) کسی کی ساری زندگی تباہ کر سکتا ہے ، شکل دیکھی ہے آئینے میں کبھی اپنی ؟ شکل سے ہی پاگل (Mental) لگتے ہو ، رنگ تو دیکھو کتنا کالا ہے ، اتنے موٹے ہو گئے ہو ، شادی کیوں نہیں کی ابھی عمردیکھی ہے اپنی ؟ آخر کب ہم انسان کو انسان سمجھیں گے ؟  کیوں ہم  کسی کو کم تر سمجھتے ہیں ، کم ظرف سمجھتے ہیں ، حقیر سمجھتے ہیں ، آخر کیوں ہم کسی کی صورت پر بات کرتے ہیں ؟ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ خوب صورتی کی بجائے اولین ترجیح خوب سیرتی ہونی چاہیے۔ اوراگر ہمیں صورت میں کوئی عیب (Fault) نہ ملے تو سیرت کو ٹارگٹ (Target) کرتے ہیں ، آخر کیوں ہم کبھی کسی کی حیثیت کا کبھی کسی کی آواز کا اور کبھی کسی کے وجود کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ 

کیوں ہم اپنے بچوں کو کسی سے نفرت کرنا سکھاتے ہیں ؟ ہم انہیں محبت کرنا کیوں نہیں سکھاتے؟ جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ہم سے محبت کریں ، پھر کیوں ہم انہیں کہتے ہیں کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور یہ بہتر نہیں ہے، پھرکیوں ہم انہیں کسی انسان سے تعلق رکھنے پر روکتے ہیں کہ اس کے بال بڑے ہیں اس سے مت ملو ، اسں کی مونچھیں بڑی ہیں یہ بدمعاش ہوگا اس سے مت ملو، کیوں ہم کسی کو اس کی شکل سے جانچتے (Judge) ہیں ؟ کیا ہمیں اپنے بچوں کی پرورش پر کوئی شک (Doubt) ہے ؟ کیوں ہم انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کا حق نہیں دیتے ؟ جب ہم اپنے گھر سے ہی اپنے بچوں کو یہ پیغام دیں گے تو ہماری نسلیں کیسے سدھریں گیں ؟ آخر کیوں ہم نفرت کی بنیاد رکھتے ہیں ؟ اور پھر خود ہی روتے ہیں کہ ہمارے بچے ہماری عزت نہیں کرتے ، جب ہم ان کے دلوں میں نفرت کے بیج بوئیں گے تو پھول کہاں کھلیں گے؟ انہیں محبت کرنا سکھائیں  ، دوسروں سے پیار کرناسکھائیں ، انہیں اپنے فیصلے خود کرنا سکھائیں نہ کہ ان کو کسی کو تنگ (Bully) کرنا ۔ ایک بات تو طے ہے ہمارے بچے وہی کریں گے جو ہم انہیں سکھائیں گے ۔

کتنی آسانی سے ہم اپنے الفاظ سے کسی کو ایک لمحے میں اس کی اوقات یاد دلاتے ہیں ، ہمارے پاس کوئی حق نہیں ہے کسی کو کچھ کہنے کا ، ہم کیوں کسی کی ذاتی زندگی (Personal Life ) میں گھستے ہیں ؟ اور جو دل میں آتا ہے بنا سوچے سمجھے جملے کستے ہیں ، ہم کیوں خدا بن گئے ہیں ؟ کیوں ہم کسی کی خوبصورت زندگی کو تباہ کرتے ہیں ۔ 

باقی تمام بیماریاں ہماری سمجھ میں آتی ہیں تو ڈپریشن (Depression) کیوں سمجھ میں نہیں آتا ؟ ہمارے ہاں دماغی بیماری ( Mental Illness) کو کیوں سیریس نہیں لیا جاتا ؟ سائیکو (Psycho)  ملنگ ، پاگل (Mental)  جیسے ناموں سے پکارتے ہیں لیکن ان کی مدد نہیں کرتے ، کیوں ہم کسی کی بیماری کا مذاق بناتے ہیں؟ یاد آیا ہم تو اس کو بیماری ہی نہیں سمجھتے بلکہ ان کو تنگ کرکے لطف اندوز (Entertain) ہوتے ہیں ۔ 

مسلم ہونے کے ناطے میں بس اتنا جانتا ہوں کہ عبداﷲ بن مسعوؓد سے روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے  ’’ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبّر ہوگا، وہ جنّت میں نہیں جائے گا۔ 

ایک صحابی نے حضور اکرمؐ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! انسان کو جو کچھ عطا ہوا ، اس میں سب سے بہتر کیا ہے؟ “ تو آپ نے جواب میں فرمایا ”اچھے اخلاق“۔
پس دین و دنیا سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک اچھا اور مثالی معاشرہ قائم کرنے کے لیے ہر سطح پر ہمیں اچھے کردار و اخلاق کی ضرورت ہے۔ ایسا ہو جائے تو ہم ایک مثالی معاشرے کے داعی بن سکتے ہیں۔

یہ کالم ہمارے معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل پر لکھا گیا ہے ،  اورمیں  خود اس کالم میں موجود تمام الفاظ کا ذمہ دار ہوں ،  ادارے کی پالیسی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ 

 

 

Advertisement
 سچائی کے بغیر امن ممکن نہیں،صحافت کا کردار جمہوری معاشرے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے،صدر اور وزیر اعظم کا پیغام 

 سچائی کے بغیر امن ممکن نہیں،صحافت کا کردار جمہوری معاشرے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے،صدر اور وزیر اعظم کا پیغام 

  • ایک دن قبل
مراکش میں مشترکہ مشق ’’افریقن لائن‘‘ کے دوران 2 امریکی فوجی اہلکار لاپتہ

مراکش میں مشترکہ مشق ’’افریقن لائن‘‘ کے دوران 2 امریکی فوجی اہلکار لاپتہ

  • ایک دن قبل
پی ایس ایل: فائنل کی رنگا رنگ تقریب کا انعقاد، قذافی اسٹیڈیم میں ہاؤس فل 

پی ایس ایل: فائنل کی رنگا رنگ تقریب کا انعقاد، قذافی اسٹیڈیم میں ہاؤس فل 

  • ایک دن قبل
وزیر داخلہ محسن نقوی کا لاہور میں نادرا سنٹر کا دورہ، ناقص انتظامات پر شدید برہم

وزیر داخلہ محسن نقوی کا لاہور میں نادرا سنٹر کا دورہ، ناقص انتظامات پر شدید برہم

  • 21 گھنٹے قبل
 مذاکرات میں پیشرفت امریکی رویے کی تبدیلی سے مشروط ہے، ایرانی سفیر

 مذاکرات میں پیشرفت امریکی رویے کی تبدیلی سے مشروط ہے، ایرانی سفیر

  • ایک دن قبل
یوم آزادی صحافت: سچ اب جعلی کیوں لگنے لگا ہے؟

یوم آزادی صحافت: سچ اب جعلی کیوں لگنے لگا ہے؟

  • ایک دن قبل
'معرکۂ حق' کی فتح کو ایک سال، گنڈا سنگھ بارڈر پرجذبہ انگیز تقریب

'معرکۂ حق' کی فتح کو ایک سال، گنڈا سنگھ بارڈر پرجذبہ انگیز تقریب

  • 2 گھنٹے قبل
بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں پراکسی وار کر رہا ہے،وزیر دفاع

بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں پراکسی وار کر رہا ہے،وزیر دفاع

  • 21 گھنٹے قبل
نئی دہلی کی رہائشی عمارت میں اے سی پھٹنے سے خوفناک آتشزدگی،9 افراد جانبحق 

نئی دہلی کی رہائشی عمارت میں اے سی پھٹنے سے خوفناک آتشزدگی،9 افراد جانبحق 

  • ایک دن قبل
جمائما گولڈ اسمتھ نے معروف ارب پتی فنانسر سے منگنی کر لی،جلد شادی کا امکان 

جمائما گولڈ اسمتھ نے معروف ارب پتی فنانسر سے منگنی کر لی،جلد شادی کا امکان 

  • ایک دن قبل
پی ایس ایل فائنل: حیدر آباد کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی،زلمی کو جیت کیلئے 130رنز کا ہدف

پی ایس ایل فائنل: حیدر آباد کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی،زلمی کو جیت کیلئے 130رنز کا ہدف

  • 20 گھنٹے قبل
پاکستان رینجرزاکیڈمی منڈی بہاؤالدین میں ریکروٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا شاندارانعقاد

پاکستان رینجرزاکیڈمی منڈی بہاؤالدین میں ریکروٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا شاندارانعقاد

  • ایک دن قبل
Advertisement