پوپ کا انتخاب سینیئر پاردری کرتے ہیں جنھیں کارڈینلز کہا جاتا ہے اور یہ انتخابی عمل صدیوں سے انتہائی خفیہ طریقے سے سرانجام دیا جاتا ہے


پوپ فرانسس کی وفات کے بعد اب رومن کیتھولک چرچ کو اپنے نئے مذہبی پیشوا کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہو گا۔ پوپ کا انتخاب سینیئر پاردری کرتے ہیں جنھیں کارڈینلز کہا جاتا ہے اور یہ انتخابی عمل صدیوں سے انتہائی خفیہ طریقے سے سرانجام دیا جاتا ہے۔
پوپ کیتھولک چرچ کا سربراہ ہوتا ہے۔ رومن کیتھولک مسیحیوں کا ماننا ہے کہ پوپ کا براہ راست تعلق حضرت عیسیٰ سے ہوتا ہے اور وہ سینٹ پیٹر کے زندہ جانشین ہیں جو مسیحی مذہب کی تعلیمات کے مطابق حضرت عیسی کے چند ابتدائی ماننے والوں میں سے ایک تھے۔اسی وجہ سے پوپ کو کیتھولک چرچ پر مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے اور وہ دنیا بھر کے تقریبا ڈیڑھ ارب کیتھولکس کے لیے ایک بااختیار اور اہم شخصیت اور روحانی پیشوا کا درجہ رکھتے ہیں۔
پوپ کی وفات کے بعد آخری رسومات کافی بڑے پیمانے پر ہوتی ہیں لیکن پوپ فرانسس نے حال ہی میں اس پورے عمل کو سادہ بنانے کی ہدایت کی تھی۔ماضی میں پوپ کو جس تابوت میں دفنایا جاتا تھا وہ صنوبر، سیسے اور شاہ بلوط کی لکڑی کے بنے ہوتے تھے۔ پوپ فرانسس نے ایک سادہ لکڑی کے تابوت کا انتخاب کیا جس کے کناروں پر زنک موجود ہو گا۔
پوپ فرانسس ایک صدی سے زیادہ عرصہ میں وہ پہلے پوپ ہوں گے جن کو ویٹیکن سے باہر دفنایا جائے گا۔ پوپ فرانسس کو سینٹ میری میجر بسیلیکا میں دفنایا جائے گا جو روم میں ہی واقع ہے۔ بسیلیکا ایک ایسی چرچ کو کہتے ہیں جسے ویٹیکن کی جانب سے خصوصی درجہ اور مراعات دی جا چکی ہوتی ہیں۔
نئے پوپ کا انتخاب کسی پوپ کی موت یا ان کے مستعفی ہونے کے بعد کیا جاتا ہے جیسا کہ 2013 میں پوپ بینیڈکٹ کے استعفے کے بعد ہوا تھا اور پیر کو وفات پانے والے پوپ فرانسس نے ان کی جگہ لی تھی۔ کوئی بھی بپتسمہ یافتہ کیتھولک مسیحی مرد پوپ منتخب ہو سکتا ہے تاہم، یہ عہدہ ہمیشہ کیتھولک چرچ ان سینیئر عہدیداران کے پاس رہا ہے جنہیں کارڈینلز کہتے ہیں۔
دنیا بھر میں اس وقت 252 کارڈینلز ہیں جو عام طور پر بشپ بھی ہوتے ہیں تاہم نئے پوپ کے انتخاب میں صرف وہی کارڈینلز ووٹ دے سکتے ہیں جن کی عمر 80 سال سے کم ہو۔ان ’کارڈینل الیکٹرز‘ کی تعداد عام طور پر 120 تک محدود ہوتی ہے تاہم اس وقت 135 کارڈینلز ایسے ہیں جو نئے پوپ کو منتخب کرنے کے اہل ہیں۔
نئے پوپ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ سسٹین چیپل میں ہوتی ہےنئے پوپ کے انتخاب کے لیے تمام کارڈینلز کو پوپ کونکلیو کے لیے روم میں ویٹیکن سٹی بلایا جاتا ہے۔ یہ وہ انتخابی عمل ہے جس پر تقریباً 800 برس سے بغیر کسی تبدیلی کے عمل ہو رہا ہے۔ کونکلیو کے پہلے دن، یہ افراد سینٹ پیٹرز بسیلیکا میں عبادت کرتے ہیں جس کے بعد وہ ویٹیکن کے سسٹین چیپل میں جمع ہوتے ہیں۔
اس موقع پر ’ایکسٹرا اومنیس‘ (لاطینی زبان میں ’ہر ایک باہر‘) کا حکم دیا جاتا ہے جس کے بعد سے، نئے پوپ کے انتخاب تک تمام کارڈینلز کو ویٹیکن کے اندر رکھا جاتا ہے۔کارڈینل الیکٹرز کے پاس کونکلیو کے پہلے دن سسٹین چیپل میں ابتدائی ووٹ ڈالنے کا اختیار ہوتا ہے۔ دوسرے دن کے بعد سے، وہ ہر صبح دو مرتبہ ووٹ ڈالتے ہیں، اور ہر دوپہر کو چیپل میں دو مرتبہ ووٹنگ ہوتی ہیں اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک پوپ کے عہدے کے لیے صرف ایک امیدوار باقی نہ رہ جائے۔
ووٹنگ کے دوران ہر کارڈینل الیکٹر بیلٹ پیپرز پر اپنے پسندیدہ امیدوار کا نام لکھتا ہے۔ بیلٹ کو خفیہ رکھنے کے لیے، کارڈینلز سے کہا جاتا ہے کہ وہ یہ تحریر اپنی عام لکھائی کے انداز میں نہ لکھیں۔اگر دوسرے دن کے اختتام تک کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تو تیسرا دن دعا اور غور و فکر کے لیے دیا جاتا ہے اور اس دن ووٹنگ نہیں ہوتی۔ تاہم چوتھے دن سے ووٹنگ معمول کے مطابق شروع ہو جاتی ہے۔
سسٹین چیپل کی چمنی سے اٹھنے والا سفید دھواں اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ نئے پوپ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔ کونکلیو کے دوران ہر روز دو بار استعمال شدہ بیلٹ پیپرز کو جلایا جاتا ہے اور ویٹیکن سے باہر لوگ چمنی سے نکلتا ہوا ان کا دھواں دیکھ سکتے ہیں۔ان کاغذات پر سیاہ یا سفید رنگ ڈالا جاتا ہے۔ کالا دھواں ایک غیر نتیجہ خیز ووٹ کی علامت ہوتا ہے جبکہ سفید دھواں اشارہ کرتا ہے کہ نئے پوپ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔
انتخاب کے بعد نیا پوپ روایتی طور پر سینٹ پیٹرز سکوائر میں جمع عقیدت مندوں سے خطاب کرتا ہے، انتخاب میں کامیابی کے بعد، نئے پوپ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ سپریم پوپ کے طور پر اپنے کنونیکل الیکشن کو قبول کرتے ہیں؟، تصدیق کے بعد وہ اس نام کا انتخاب کرتا ہے جس سے وہ پوپ کے طور پر پہچانا جانا چاہتا ہے اور پھر اسے پوپ کا لباس پہنایا جاتا ہے۔
اس کے بعد کارڈینلز نو منتخب پوپ کا خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری کا وعدہ کرتے ہیں۔ اسی دوران سینٹ پیٹرز بیسیلیکا کی بالکونی سے نیچے موجود ہجوم کے لیے لاطینی زبان میں ایک اعلان کیا جاتا ہے، جس کے الفاظ ’ہیبمس پاپام‘ ہیں یعنی کہ ’ہمارے پاس ایک پوپ ہے۔‘اس کے بعد نئے پوپ کا نام سامنے آتا ہے اور وہ بالکونی میں آ کر ایک مختصر خطاب کرتا ہے اور دعا دیتا ہے۔
اس کے بعد کونکلیو کے دوران ہونے والی ووٹنگ کے ہر دور کے نتائج پوپ کو دکھائے جاتے ہیں جس کے بعد انھیں سربمہر کر کے ویٹیکن آرکائیوز میں رکھ دیا جاتا ہے اور صرف پوپ کے حکم پر ہی دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
فٹبال لیجینڈ میسی نے انٹرنیشنل فٹبال کو خیربادکہہ دیا
- 2 days ago

سینیئر بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں دنیا چھوڑگئے
- a day ago

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے قبضے سے بازیاب تین پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے
- 2 days ago

ضلع خیبر: نامعلوم افراد کی فائرنگ، پولیس اہلکار شہید
- 35 minutes ago

مہنگائی نے کسان، مزدور اور چھوٹے تاجروں کی کمر توڑ دی: میاں شاہد حسین
- a day ago

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب بیس کروڑ ڈالر قسط کیلئے سٹاف لیول معاہدہ
- a day ago

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا عالمی امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ
- 2 days ago

پاکستان اور بحرین کا مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے پراتفاق
- 21 hours ago
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، انتونیو گوتریس
- a day ago
کرکٹ لیجینڈ وسیم اکرم نےاپنے پسندیدہ بھارتی گلوکار کا نام بتا دیا
- 29 minutes ago

سابق خطیب داتا دربار پر مالی بدعنوانی کے الزامات ثابت، لاکھوں روپے کی ریکوری کا حکم
- 2 days ago

مصطفیٰ زاہد پہلی بار پاکستانی فلم کا میوزک بنائیں گے
- 19 hours ago








