Advertisement
پاکستان

پشاور ہائی کورٹ کا سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نئے اپوزیشن لیڈر کا تقرر روکنے کا حکم

عدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 15 اگست تک جواب طلب کرلیا

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 12th 2025, 3:46 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پشاور ہائی کورٹ کا سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نئے اپوزیشن لیڈر کا تقرر روکنے کا حکم

پشاور ہائی کورٹ نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری روکنے کا حکم دے دیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ارشد علی اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے عمر ایوب اور شبلی فراز کو  الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی نوٹی فائی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

بیرسٹر گوہر خان نے عدالت کو بتایا کہ 2 درخواستیں دائر کی ہیں، ایک عمر ایوب کی اور دوسری شبلی فراز کی ہے، عمر ایوب اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور شبلی فراز سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تھے،جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے عمر ایوب اور چیئرمین سینیٹ نے شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرکے ان کی سیٹیں خالی قرار دی ہیں۔
عدالت نے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو دونوں ایوانوں میں نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے روک دیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے خود کو مس گائیڈ کیا ہے، آرٹیکل 63(2) کی غلط تشریح کی گئی ہے، الیکشن کمیشن سید یوسف رضا گیلانی کے کیس کا حوالہ دے رہا ہے جو یہاں ٹھیک نہیں ہے، سید یوسف رضا گیلانی کا کیس اس کیس سے بالکل مختلف تھا، ہماری درخواست ہے الیکشن کمیشن کو مزید کارروائی سے روک دیں۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو عمر ایوب اور شبلی فراز کے خلاف مزید کارروائی سے بھی روک دیا اور درخواست پر مزید سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی مقدمات میں عمر ایوب اور شبلی فراز کو سزا سنائی تھی جس کے بعد دونوں ارکان نااہل ہوگئے تھے۔ 
الیکشن کمیشن کی جانب سے دونوں رہنماؤں کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد پی ٹی آئی دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر کی نشست سے محروم ہوگئی ہے۔

Advertisement