بونیر میں سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جہاں کئی دیہات پانی کی نذر ہو گئے۔ اس ضلع میں 157 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے


گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث پیش آنے والے حادثات میں 344 افراد جاں بحق جبکہ 148 زخمی ہو چکے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق شمالی علاقوں میں بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کے مزید واقعات کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بارش اور سیلاب کے دوران محتاط رہیں اور ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔ سیاحوں کو آئندہ 5 سے 6 دن تک شمالی علاقہ جات کے سفر سے اجتناب کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے دستے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین کو خوراک اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے، جب کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا جا رہا ہے۔
بونیر میں سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جہاں کئی دیہات پانی کی نذر ہو گئے۔ اس ضلع میں 157 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے لیے مسلح افواج اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے امدادی سامان روانہ کر دیا گیا ہے، اور ادارہ تمام متعلقہ سول اور عسکری اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
ترجمان کے مطابق امدادی سرگرمیوں کی ہر لمحے نگرانی کی جا رہی ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بارش اور سیلاب سے مجموعی طور پر 74 گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 63 کو جزوی اور 11 کو مکمل تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
حادثات کے بیشتر واقعات سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔ متاثرہ اضلاع کے لیے 50 کروڑ روپے کی امدادی رقم جاری کر دی گئی ہے، جن میں بونیر کو 15 کروڑ، جبکہ باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کے لیے 10، 10 کروڑ اور سوات کے لیے 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق صوبے کے 11 اضلاع سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے متاثر ہوئے ہیں، جہاں مجموعی طور پر 3 ہزار 817 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 32 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے، جب کہ 545 ریسکیو اہلکار، 90 گاڑیاں اور کشتیاں امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بونیر میں سب سے زیادہ 159 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 100 افراد کو زندہ بچایا گیا۔ باجوڑ میں 20 افراد جان سے گئے اور ایک شخص لاپتا ہے، جبکہ بٹگرام میں 11 لاشیں نکالی گئی ہیں اور 10 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
ادھر گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ شمس لون نے بتایا کہ مئی اور جون سے جاری سیلابی صورتحال نے جی بی کے تقریباً تمام اضلاع کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے، جبکہ 4 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خطے میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا۔ گلگت بلتستان میں 318 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 674 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل
- ایک دن قبل

بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر
- 3 دن قبل

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
- 3 دن قبل

لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک
- ایک دن قبل

لاہور میں بسنت کی تاریخوں کا اعلان
- 3 دن قبل

نئے صوبوں کا قیام اور گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں، ابراہیم حسن مراد
- 2 دن قبل

آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور
- 2 دن قبل

نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی
- 2 دن قبل

پیٹرول پمپ ملازم تشدد کیس:عدالت کا ملزم کی رہائی کا حکم
- ایک دن قبل

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا
- 2 دن قبل

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فلسطینیوں کے حملہ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی
- 2 دن قبل

لاہور:موٹر سائیکل سوار شہری کا اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد، ملزم گرفتار
- 3 دن قبل





