Advertisement
پاکستان

سپریم کورٹ نے نیب کیس میں سزا یافتہ سابق ڈپٹی سیکرٹری کو الزامات سے بری کر دیا

سابق ڈپٹی سیکرٹری سردار حسین کو 2015 میں کرپشن کے الزام میں 3 سال قید اور 45 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے 2018 میں سپریم کورٹ میں اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 22nd 2025, 8:01 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سپریم کورٹ نے نیب کیس میں سزا یافتہ سابق ڈپٹی سیکرٹری کو الزامات سے بری کر دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے کیس میں سزا کاٹنے والے سابق ڈپٹی سیکرٹری سردار حسین کو کرپشن کے الزامات سے بری کر دیا۔

عدالت نے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جو جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریر کیا۔ فیصلے کے مطابق، سردار حسین 3 سال قید کی سزا بھگت چکے ہیں، تاہم ان کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں بنتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بوگس چیک جاری کرنے کا اعتراف متعلقہ کیشیئر پہلے ہی کر چکا ہے، جبکہ سردار حسین کے خلاف نہ تو کسی قسم کے مالی فائدے کا ثبوت پیش کیا گیا، اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کے خلاف مالی فوائد حاصل کرنے کے شواہد موجود ہیں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جب کسی فرد کے خلاف مالی بدعنوانی کے ثبوت ہی نہ ہوں، تو سزا دینا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ چنانچہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سردار حسین کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ سابق ڈپٹی سیکرٹری سردار حسین کو 2015 میں کرپشن کے الزام میں 3 سال قید اور 45 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے 2018 میں سپریم کورٹ میں اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

Advertisement