Advertisement

بالوں کا سفید ہونا ممکنہ طور پر کینسر سے تحفظ فراہم کرتا ہے، تحقیق

جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں دریافت ہوا ہے کہ بالوں کی رنگت بدلنے والے اسٹیم سیلز نہ صرف بالوں کو سفید کرتے ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Oct 21st 2025, 8:36 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بالوں کا سفید ہونا ممکنہ طور پر کینسر سے تحفظ فراہم کرتا ہے، تحقیق

بالوں کا سفید ہونا بظاہر بڑھاپے یا دباؤ کی علامت سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر اگر یہ عمل جوانی میں شروع ہو جائے تو اکثر افراد اسے ناپسند کرتے ہیں۔ تاہم، ایک نئی سائنسی تحقیق میں اس حیرت انگیز عمل کا ایک ممکنہ فائدہ سامنے آیا ہے — یہ کینسر سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں دریافت ہوا ہے کہ بالوں کی رنگت بدلنے والے اسٹیم سیلز نہ صرف بالوں کو سفید کرتے ہیں بلکہ مخصوص حالات میں جلد کے خطرناک کینسر (melanoma) سے بھی بچاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق، جلد اور بالوں میں موجود melanocyte اسٹیم سیلز ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان کا تجزیہ کرتے ہیں، اور اگر نقصان شدید ہو تو وہ خود کو جسمانی نظام سے الگ کر لیتے ہیں — جس کا نتیجہ بالوں کی سفیدی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ عمل جسم کا قدرتی دفاعی میکنزم ہوتا ہے تاکہ یہ سیلز کینسر میں تبدیل نہ ہو سکیں۔

جب صرف جینومک انجری کی گئی تو melanocyte اسٹیم سیلز نے خود کو ختم کر لیا، جس سے بال سفید ہو گئے — اور یوں ممکنہ خطرناک خلیات کو تلف کر دیا گیا۔

لیکن جب مخصوص کیمیائی مادوں جیسے UV-B یا DMBA کا استعمال ہوا، تو یہی خلیات ختم ہونے کے بجائے تقسیم ہونے لگے، جس سے جلد کے کینسر کا خطرہ بڑھ گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر بار بال سفید ہونا کینسر سے بچاؤ کی ضمانت نہیں، لیکن یہ قدرتی طریقہ ممکنہ نقصان دہ خلیات کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم بعض زہریلے کیمیکل اس دفاعی نظام کو ناکام بنا دیتے ہیں۔

یہ تحقیق نہ صرف عمر بڑھنے کے حیاتیاتی عوامل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ممکنہ طور پر کینسر کے نئے علاج کے دروازے بھی کھول سکتی ہے۔

تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے Nature Cell Biology میں شائع ہوئے ہیں۔

Advertisement