تازہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال تقریباً 1.5 ملین بچے پانچ سال سے کم کی عمر میں نمونیا کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں


ہر سال 12 نومبر کو دنیا بھر میں نمونیا کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس مہلک بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے اور عوام کو اس کے اثرات اور روک تھام کے اقدامات سے آگاہ کیا جا سکے۔ نمونیا نہ صرف بچوں بلکہ بزرگ افراد کے لیے بھی خطرناک ہے اور یہ دنیا بھر میں بچوں اور بوڑھوں میں موت کی سب سے بڑی متعدی وجوہات میں سے ایک ہے۔
2025 کے تازہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال تقریباً 1.5 ملین بچے پانچ سال سے کم کی عمر میں نمونیا کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کے ہیں۔ بالغ افراد میں بھی نمونیا ایک سنجیدہ خطرہ ہے، خاص طور پر وہ لوگ جن کی قوت مدافعت کمزور ہو یا وہ دائمی بیماریوں جیسے ذیابیطس، دمہ یا دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوں۔
نمونیا کیا ہے؟
نمونیا ایک ایسا انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں ہوا کے تھیلے سیال یا پیپ سے بھر جاتے ہیں، جس سے پھیپھڑوں کی معمول کی فعالیت متاثر ہوتی ہے اور جسم میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ یہ وائرس، بیکٹیریا، یا فنگس کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے، اور اکثر نیوموکوکس بیکٹیریا، انفلوئنزا وائرس اور دیگر سانس کے وائرس اس کے بنیادی اسباب ہوتے ہیں۔
صحت مند بالغ افراد اکثر علاج سے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں، مگر چھوٹے بچے، بزرگ، اور کمزور مدافعت والے افراد شدید خطرے میں رہتے ہیں۔
ذیل میں پانچ اہم احتیاطی تدابیر درج ہیں جن پر عمل کر کے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔
ویکسین:
ویکسین لگوانا ہر بیماری کے خلاف پہلا اور سب سے مؤثر دفاع ہے۔ نمونیا کی ٹیکے سے بچوں کو اس سنگین بیماری سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
صاف اور صحت مند ہوا:
سردیوں میں فضائی آلودگی مزید بڑھ جاتی ہے جس کے ساتھ ساتھ نمونیا کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ بیرونی فضائی آلودگی کے سبب پھیپھڑوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
ہاتھوں کی حفظانِ صحت:
سادہ مگر مؤثر عمل ہاتھوں کی صفائی ہے چونکہ نمونیا کے وائرس یا بیکٹیریا آسانی سے ہاتھوں یا متاثرہ سطحوں سے پھیل سکتے ہیں اس لیے کھانا کھانےاور پکانے سے پہلے، کھانسی یا چھینکنے کے بعد اور باہر سے گھر آنے کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھونا ضروری ہے۔
کمزور افراد کا تحفظ:
بچوں کے ساتھ ساتھ 65 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ بھی نمونیا کے حملے کے لیے خاص طور پر خطرے میں ہیں، اگر ضعیف افراد کو ذیابیطس، دل کی بیماری یا سانس کے مسائل ہوں تو نمونیا کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے، اس لیے بزرگوں کو سالانہ فلو شاٹ اور بالغوں کو نمونیا کی ویکسین ضرور لگوانی چاہیے۔
ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے متوازن غذا جس میں وٹامن سی، زنک اور وٹامن ڈی کی مناسب مقدار موجود ہو، قدرتی طور پر پھیپھڑوں کی صحت کو بہتر کرتی ہے۔
خطرے کی علامات کی شناخت:
علاج سے پہلے بروقت پہچان اہم ہے۔ کبھی کبھی کھانسی عام نہیں رہتی اور نمونیا میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
بچوں میں علامات: سانس بہت تیز لینا، چھاتی کا سانس لینے کے دوران اندر چلے جانا۔
بزرگوں میں نشانات: شدید بخار، مسلسل کھانسی، الجھن، ہونٹوں یا چہرے کا نیلا پڑ جانا۔
اگر خاندان کے کسی بھی فرد میں یہ علامات نظر آئیں تو فوراً طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
وہ بھاڑ میں جائے جو کہتا ہے پاکستان بھاڑ میں جائے، علامہ طاہر اشرفی
- 26 منٹ قبل

مصر نے 92 سال بعد فیفا ورلڈ کپ کا میچ جیت لیا، نیوزی لینڈ کو 3-1 سے شکست
- 21 گھنٹے قبل

اسلام آباد اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
- ایک دن قبل

مفاہمتی یاداشت پر اتفاق ہونے کے بعدامریکا نے ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دی دی
- 21 گھنٹے قبل

چند دن کی کمی کے بعد سونا پھر ہزاروں روپے مہنگا ، نئی قیمت کیا ہو گئی؟
- ایک دن قبل

ایران امریکہ مذاکرا کا پہلا دور کامیابی سے مکمل،آئندہ بھی کردار ادا کرتے رہیں گے، وزیراعظم
- ایک دن قبل

وفاقی حکومت نے یوم عاشورہ کے موقع پر عام تعطیلات کا اعلان کر دیا،نوٹیفکیشن جاری
- ایک دن قبل

گلگت بلتستان اسمبلی میں اسپیکر پیپلز پارٹی اور ڈپٹی اسپیکر (ن) لیگ سے منتخب
- 21 گھنٹے قبل

خطے میں جنگ بندی چاہتے ہیں،ایرانی ایٹمی پروگرام بند کرنے پر پیشرفت ہوئی ہے، جے ڈی وینس
- ایک دن قبل

ایران امریکہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار،صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کا امکان
- ایک دن قبل
پیپلزپارٹی کے امجد حسین بلامقابلہ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے
- 18 گھنٹے قبل

دوران احتجاج سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کا الزام ، ماہ رنگ بلوچ کو عمرقید کی سزا
- 21 گھنٹے قبل





.jpeg&w=3840&q=75)





