جنوبی افریقی حکام کی اس بات کو جرمن ماہرین صحت نے خوشی کی خبر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اومی کرون سے متاثرہ مریض میں شدید علامات نہیں پائی جارہیں تو یہ کرسمس سے قبل قدرت کا تحفہ ہے۔


کیپ ٹاؤن : جنوبی افریقا میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومی کرون نے دنیا بھر میں پھر ہلچل مچادی ہے۔
جنوبی افریقا اور اس کے آس پاس موجود ممالک پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے سفری پابندیاں عائد کردی ہیں تاکہ وائرس ان کے ملک میں نہ پہنچ جائے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے عالمی سطح پر اومی کرون ویرینٹ کےممکنہ مزید پھیلاؤ کا امکان ظاہر کردیا ہے اور کہا ہے کہ اومی کرون ویرینٹ کےسبب مستقبل میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتاہے جس کےسنگین نتائج ہوسکتےہیں۔

لیکن کیا واقعی کورونا کی یہ نئی قسم خطرے کی گھنٹی ہے یا یہ قدرت کا تحفہ ثابت ہوگی؟ آئیے جانتے ہیں کہ اس حوالے سے ماہرین کیا کہتے ہیں۔
جنوبی افریقا کے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نئے ویرینٹ کی اب تک کوئی شدید علامات سامنے نہیں آئیں اور اس سے متاثرہ افراد میں کورونا کی ہلکی نوعیت کی علامات دیکھی گئیں ہیں۔
جنوبی افریقی حکام کی اس بات کو جرمن ماہرین صحت نے خوشی کی خبر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اومی کرون سے متاثرہ مریض میں شدید علامات نہیں پائی جارہیں تو یہ کرسمس سے قبل قدرت کا تحفہ ہے۔

جنوبی افریقی ماہرین کا کہنا ہے کہ اومی کرون ویرینٹ کے متاثرہ مریض کو سر درد اور تھکان کی علامات سامنے آئی ہیں اور پچھلے ویرینٹس کی طرح اس ویرینٹ سے متاثر کوئی شخص اب تک اسپتال میں داخل نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کی موت ہوئی ہے۔
جرمنی کے اگلے متوقع وزیر صحت اور وبائی امراض کے ماہر پروفیسر کارل لوٹر باخ کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اومی کرون کرسمس کا تحفہ ہے اور یہ عالمی وبا کے خاتمے کی رفتار تیز کردے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اومی کرون میں بہت زیادہ تبدیلیاں ہیں، 32 تبدیلیاں تو صرف اس کے اسپائیک پروٹین میں ہیں جو ڈیلٹا سے دوگنا ہیں اور اب تک متاثرہ مریضوں کا جو ڈیٹا سامنے آرہاہے اس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اومی کرون نے خود کو اس طرح ڈھال لیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر تو کرسکتا ہے لیکن اس کے مہلک اثرات میں کمی آگئی ہے۔
کارل لوٹرباخ نے کہا کہ اگر یہ درست ہے تو پھر اومی کرون کی صورت میں کورونا وائرس بھی نظام تنفس کے دیگر وائرس کی طرح ارتقائی مراحل طے کر رہا ہے۔
یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا کے متعدی امراض کے ماہر پروفیسر پال ہنٹر کہتے ہیں کہ اومی کرون کی شدت زیادہ نہ ہونے کا نظریہ درست نظر آتا ہے لیکن ممکنہ طور پر اس کی وجہ وائرس کی تبدیلی نہیں بلکہ پچھلے ویرینٹس سے بڑے پیمانے پر ہونے والے انفیکشنز اور ویکسینیشن مہم ہے جو اس نئے ویرینٹ کے خلاف تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
اگر ایسا ہے تو بھی یہ اچھی خبر ہے کیوں کہ وائرس چاہے خود کو جتنا بھی تبدیل کرلے انسانی قوت مدافعت سے مکمل طور پر نہیں چھپ سکتا اور جو لوگ ماضی میں کورونا کا شکار ہوئے ہیں یا ویکسین شدہ ہیں وہ اس نئے ویرینٹ سے بھی زیادہ بہتر طریقےسے لڑ سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس ویرینٹ کے اب تک زیادہ شدید کیسز سامنے نہیں آئے۔
ماہرین صحت کافی عرصے سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ شاید کورونا وائرس کبھی ختم نہ ہو ہاں ممکن ہے کہ یہ اپنی ہیئت تبدیل کرتا ہوا محض زکام کی وجہ بننے والے وائرس کی طرح رہ جائے۔

اومی کرون کے حوالے سے ماہرین فی الحال کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس ویرینٹ کے اثرات کا جائزہ لینے میں کم سے کم دو ہفتوں کا وقت درکار ہوگا اور اس دوران یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ یہ ڈیلٹا وائرس سے زیادہ خطرناک ہے یا نہیں اور ویکسین کا اس پر کتنا اثر ہورہا ہے۔
اومی کرون ویرینٹ کے زیادہ تر کیسز نوجوانوں میں سامنے آئے ہیں جن میں کم شدت کی علامات پائی گئی ہیں۔
گزشتہ ہفتے اومی کرون کے سامنے آنے کے بعد سے اب تک اس کے زیادہ تر کیسز جنوبی افریقا میں نظر آئے ہیں جہاں ایک ہفتے کے دوران مثبت کیسز کی شرح 20 گنا اضافے کے ساتھ یومیہ 6 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے البتہ اموات کی شرح اپنی جگہ پر موجود ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اومی کرون سے اس وقت زیادہ تر نوجوان متاثر ہوئے ہیں ممکن ہے کہ بوڑھے افراد اس سے اتنا بہتر مقابلہ نہ کرسکیں جتنا نوجوان کررہے ہیں کیوں کہ ان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو چند ہفتے انتظار کرنا ہوگا یہ جاننے کیلئے کہ نئے ویرینٹ سے درحقیت کتنا خطرہ ہے۔ فی الحال اس سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ ویکسین لگوانا ہی ہے۔

حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ ،جنگ میں باقاعدہ شمولیت کی دھمکی دے دی
- 18 گھنٹے قبل

محکمہ صحت کا ایکشن : لیڈی ولنگٹن ہسپتال کے ویڈیو اسکینڈل پر ایم ایس اور ڈاکٹرز عہد وں سے معطل
- 14 گھنٹے قبل

پی ایس ایل: پشاور زلمی نے راولپنڈیزکو 5 وکٹوں سے شکست دےدی
- 13 گھنٹے قبل

ایران نے مزیددو پاکستانی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دیدی
- 14 گھنٹے قبل

لالی وڈ کے نامور نغمہ نگار الطاف باجوہ انتقال کر گئے
- 18 گھنٹے قبل

ایران کا سعودی عرب کی پرنس سلطان ائیر بیس پر میزائل حملہ،12 امریکی فوجی زخمی
- 17 گھنٹے قبل

انسولین اوردیگر جان بچانے والی دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا،دواساز کمپنیوں کادعویٰ
- 11 گھنٹے قبل

وزیراعظم کا ایرانی صدرِ ایرانی صدر ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں کشیدگی اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال
- 17 گھنٹے قبل

پاکستان کی ایران کو چاول، سمندری خوراک، فارماسیوٹیکل مصنوعات اور دیگر اشیاء برآمدکرنےکی اجازت
- 12 گھنٹے قبل

اسحا ق ڈار کا قطری وزیر خارجہ سےٹیلیفونک رابطہ،علاقائی اورعالمی صورتحال پرتبادلہ خیال
- 13 گھنٹے قبل

پاکیزہ ڈرامہ مقبول، عوام کی بڑی تعدا د امڈ آئی،فیروزہ علی، قیصر پیا اور شاہد خان نے میدان مار لیا
- 12 گھنٹے قبل

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سوناآج پھر ہزاروں روپے مہنگا ،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 17 گھنٹے قبل









