جی این این سوشل

صحت

یو اے ای میں ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں پر بڑی پابندی عائد

متحدہ عرب امارات کی دارالحکومت ابوظہبی کے تمام سرکاری محکموں میں ویکسین نہ لینے والوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

یو اے ای  میں ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں پر بڑی پابندی عائد
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

متحدہ عرب امارات حکومت نے کہا ہے کہ تمام سرکاری محکموں میں داخلے کی شرط ویکسین کی تمام خوراکوں کی تکمیل ہے۔ ’صحت کے اداروں کے طے شدہ ضوابط پر عمل کرتے ہوئے اس فیصلے سے ان لوگوں کو استثنی ہے جن کے پاس متعلقہ ادارے سے اجازت ہو‘۔

حکومت نے کہا ہے کہ نئے فیصلے کے بعد سابقہ فیصلے پر بھی عمل جاری رہے گا کہ ہر ادارے میں کام  کرنے و الے افراد ہر سات دن میں پی سی آر ٹیسٹ کرائیں گے۔

پی سی آر ٹیسٹ اداروں میں کام کرنے والے مستقل ملازموں کے علاوہ عارضی ملازموں کے لیے بھی ہے جبکہ اداروں میں آنے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ 48 گھنٹے پہلے کرائے گئے پی سی آر ٹیسٹ دکھائیں۔

ویب سائٹ کے مطابق ابوظہبی حکومت نے فیصلے کا نفاذ 10جنوری سے کر دیا ہے۔

جرم

بہاولنگر: پتی چوری کے الزام پردکانداروں کیجانب سےخواتین کی سرعام تذلیل

بہاولنگر کے علاقے ہارون آباد کے بازار میں دکانداروں نے خواتین پر مبینہ چوری کا الزام لگا کر  ان کی سرعام تذلیل کی اور خود ہی عدالت لگاتے ہوئے انصاف و قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

بہاولنگر: پتی چوری کے الزام پردکانداروں کیجانب سےخواتین کی سرعام تذلیل

رپورٹ کے مطابق ہارون آباد کے بازار میں دو خواتین کی جانب سے مبینہ طور پر چائےکی پتی کا پیکٹ چوری کرنے پر دکانداروں نے اپنی عدالت لگالی۔

دکاندار خواتین کو ان ہی کے دوپٹے سے باندھ کر بازار میں ننگے سرگھسیٹتے رہے اور انہیں ہراساں کرتے رہے۔

واقعےکی اطلاع پر پولیسں موقع پر تو پہنچی لیکن لیڈیز پولیسں کی عدم موجودگی میں خواتین کو پیدل تھانے لے جایا گیا۔

پولیسں کا کہنا ہےکہ خواتین پر چائے کی پتی کا پیکٹ چوری کرنےکا الزام ہے، معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان، چیئرمین جوڈیشل کمیشن اور ارکان کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سپریم کورٹ کا جج تعینات نہ کیے جانے پر اظہار تشویش کیا ہے۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

خط میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ چیف جسٹسز اور سینئر ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی طویل روایت رہی ہے، سینئرز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کی روایت جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس گلزار نے متعارف کروائی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان لوگوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس کا نقصان ہوا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں، حلف کا اہم تقاضا ہے کہ آئینی بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، انہیں روندا نہ جا سکے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کرتے وقت دیکھا جائے کہ وہ غیر آئینی اقدام کی مزاحمت، کالعدم قرار دینےکی صلاحیت رکھتا ہے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد یقینی بنانا ایک لازم امر ہے، عوامی اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن کی ٹی وی پر غلطیوں کا اعتراف دیر آید درست آید کہا جا سکتا ہے، کیا جسٹس نسیم حسن کا اعتراف سابق وزیراعظم کی زندگی واپس لا سکتا ہے؟ جسے ان کے احکامات پر موت دے دی گئی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کسے جج بنانا ہے کسے نہیں، تاثر یہ ہے کہ ایسا بیرونی عوامل کے باعث کیا جاتا ہے، عدلیہ میں تقرریوں کے بارے میں اس تاثر کو دور کیا جانا چاہیے، اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے، فرد واحد کی جانب سے ایک نام دینا، تقرری کے لیے ووٹنگ پر مجبور کرنا، ایک ووٹ سےجج بن جانا آئین کے مطابق نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں، اپنا احترام اور اخلاقی جواز کھو دیتی ہے، آئین ججز تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کا کہتا ہے، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں کمیشن کے پہلے اجلاس کا تجربہ بہت اچھا تھا، اجلاس ماضی کے اجلاسوں سے بہتر تھا کہ اختلاف کا بیج بونے کی روایت سے فاصلہ کیا گیا، توقع ہے آئندہ اجلاس میں بھی ججز تقرری کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کو دور کریں گے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام نے ججز کو منتخب کرنے کی آئینی ذمے داری ہمیں سونپی ہے، عدلیہ کو ججز تقرر کی ذمے داری آئین کے تحت ادا کرنا ہو گی، پاکستان کے عوام کو اس سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

یومِ تکبیر: پاک فوج کا جوہری طاقت کا خواب حقیقت بنانے والوں کو خراجِ تحسین

راولپنڈی : یومِ تکبیر کے موقع پر پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جوہری طاقت کا خواب حقیقت بنانے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔

پر شائع ہوا

Asma Rafi

کی طرف سے

یومِ تکبیر: پاک فوج کا جوہری طاقت  کا خواب حقیقت بنانے والوں کو خراجِ تحسین

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا کہ 24 سال قبل 28 مئی 1998 کو پاکستان نے کم ازکم نیوکلیئر ڈیٹرنس قائم کیا جس سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا۔

ترجمان آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسلح افواج ان تمام لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے بے لوث کام کیا۔ 

بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلح افواج ان کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو مشکلات کے خلاف ثابت قدم رہے اور اسے ممکن بنایا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں آج  یوم تکبیر منایا جارہا ہے ، 24 برس قبل اسی روز پاکستان نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اپنی جوہری طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll