لاہور ہائی کورٹ ،قیام پاکستان سے اب تک ملنے والے توشہ خانہ تحائف کی تفصیلات طلب
لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک سیاسی حکمرانوں اور بیوروکریٹس کو غیر ملکی شخصیات کی جانب سے ملنے والے توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات جمع کرائی جائیں۔


تفصیلات کے مطابق توشہ خانے سے تحائف وصول کرنے والوں کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے شہری منیر احمد کی درخواست پر جسٹس عاصم حفیظ نے سماعت کی ، شہری منیر احمد کی جانب سے دائر درخواست میں سوال کیا گیا تھا کہ توشہ خانہ سے آج تک کس کس نے تحائف وصول کیے، عدالت سے استدعا کی گئی کہ حکومت سے تحائف وصولی کی تفصیلات طلب کی جائیں۔
دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ توشہ خانے سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں ، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ خفیہ کیسے رہ سکتا ہے ، آپ تفصیلات عدالت میں پیش کریں، عدالت طے کرے گی کہ یہ خفیہ ہیں یا نہیں۔
اس دوران لاہور ہائی کورٹ نے حکومت سے توشہ خانہ سے دیے جانے والے تحائف کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں، عدالت کی جانب سے قیام پاکستان سے لے کر اب تک حکمرانوں، بیوروکریٹس کو توشہ خانہ سے دیے جانے والے تحائف کی مکمل تفصیلات اور رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کو 16 جنوری تک تمام تفصیلات عدالت میں فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ 1947ء سے اب تک توشہ خانے سے کس نے کتنے تحائف حاصل کیے؟ اس حوالے سے تفصیلات فراہم کی جائیں۔
توشہ خانہ کیا ہے؟
توشہ خانہ یا سٹیٹ ریپازیٹری دراصل ایک ایسا ڈیپارٹمنٹ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔
کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے۔یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انہیں بیچ دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کوئی تحفہ 30 ہزار روپے سے کم مالیت کا ہے تو تحفہ حاصل کرنے والا شخص اس مفت رکھ سکتا ہے،جن تحائف کی قیمت 30 ہزار سے زائد ہوتی ہے، انھیں مقررہ قیمت کا 50 فیصد جمع کروا کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 2020 سے قبل یہ قیمت 20 فیصد تھی۔
ان تحائف میں عام طور پر مہنگی گھڑیاں، سونے اور ہیرے سے بنے زیوارت، مخلتف ڈیکوریشن پیسز، سوینیرز، ہیرے جڑے قلم، کراکری اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔

کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری
- 29 minutes ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 16 hours ago

اسپین: دو تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم، 68 افراد ہلاک
- a day ago

گلوکار جبران راحیل کی عالمی سطح پر کامیابیاں، بطور پلے بیک سنگر بھی مداحوں کے دل جیت لیے
- 3 days ago

شاہکار’دیوداس‘ اسٹیج پر پیش کیا جائے گا
- 4 days ago

نوشکی: مسلح افرادکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ، تین طالبات زخمی
- 3 days ago

لام فیشن ویک تمام ترجلوے اور رنگینیاں بکھیرتا اختتام پذیر
- 3 days ago

ہانگ کانگ سپر سکسز: پاکستان نے بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دیدی
- 23 minutes ago

قومی اسمبلی میں تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے حق میں قرارداد منظور
- 3 days ago

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی
- 4 days ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 16 hours ago

ایرانی صدر پزشکیان کا مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پر علاقائی اتحاد کے لیے زور
- 4 days ago






