Advertisement
علاقائی

کرم:فریقین کے درمیان فائربندی کے بعد  تعلیمی ادارے گئے

ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر حملے اور  اس کے بعد گزشتہ کئی روز سے جاری جھڑپوں سے اب تک 131 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Dec 2nd 2024, 6:54 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
کرم:فریقین کے درمیان فائربندی کے بعد  تعلیمی ادارے گئے

 خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں 2 ہفتوں سے جاری رہنے والی  شدید کشیدگی کے بعد اب حالات معمول پر آنے لگے ہیں، گزشتہ شام فریقین کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ ہونے سے حالات میں بہتری آ رہی ہے۔

ضلعی حکام  کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والا ایک اور زخمی دم توڑگیا جس کے بعد جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 131 ہوگئی جب کہ 186زخمی ہیں

ضلع کرم میں جاری رہنےوالی  کشیدگی میں کمی کے بعد علاقے  میں 10 روز  بعد تعلیمی ادارے بھی کھل گئے تاہم پشاور  پاراچنار روڈ سمیت آمدورفت کے راستے تاحال بند ہیں جس کی وجہ سے اشیائے خورونوش، ادویات اور پیٹرول کی قلت برقرار ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور  سے کرم کی صورتحال پر گرینڈ جرگے نے ملاقات کی جس دوران کرم کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت جرگے کو مذاکرات کرنے کے لیے سپورٹ کرے گی، گرینڈ جرگے کے ذریعے کرم کے معاملے کا پر امن اور پائیدار حل نکلے گا۔

واضح رہے  کہ گزشتہ دنوں  ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر حملے اور  اس کے بعد گزشتہ کئی روز سے جاری جھڑپوں سے اب تک 131 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

Advertisement
Advertisement