Advertisement
پاکستان

"جماعت اسلامی کا میئر کراچی پر کڑا وار: کارکردگی صفر، دعوے بلند

جماعت اسلامی کراچی نے اپنے زیرانتظام 9 ٹاؤنز کو ملنے والے آکٹرائے ضلع ٹیکس (OZT) کے سالانہ اخراجات کی تفصیلات جاری کر دیں

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 23rd 2025, 7:58 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
"جماعت اسلامی کا میئر کراچی پر کڑا وار: کارکردگی صفر، دعوے بلند

جماعت اسلامی کراچی نے اپنے زیرانتظام 9 ٹاؤنز کو ملنے والے آکٹرائے ضلع ٹیکس (OZT) کے سالانہ اخراجات کی تفصیلات جاری کر دیں۔

کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی، منعم ظفر خان نے بتایا کہ مالی سال 2023-24 کے دوران ان کے 9 ٹاؤنز کو اوسطاً ماہانہ 90 کروڑ 76 لاکھ روپے موصول ہوئے، جن میں سے ہر ماہ تقریباً 70 کروڑ 34 لاکھ روپے صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوئے۔

ان کے مطابق باقی ماندہ رقم یعنی تقریباً 20 کروڑ روپے دیگر اخراجات جیسے کہ ایندھن، لیو انکیشمنٹ، میڈیکل، پروویڈنٹ فنڈ اور انشورنس پر صرف کی گئی۔ صرف گلشن اقبال ٹاؤن نے اضافی 3 کروڑ روپے اپنے وسائل سے خرچ کیے۔

منعم ظفر خان نے کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ “اگر بارش زیادہ ہو جائے تو کوئی بھی طرم خان آ جائے، پانی نہیں نکال سکتا۔”

انہوں نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "وہ کس کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ پیپلز پارٹی ایک جاگیردارانہ اور کرپٹ مافیا پر مشتمل جماعت ہے جو کراچی کے عوام کو ان کا حق دینا ہی نہیں چاہتی۔ شہر پانی میں نہیں، بلکہ کرپشن، نااہلی اور بدانتظامی میں ڈوبا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ "بارشوں نے پیپلز پارٹی اور میئر کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ صرف 230 ملی میٹر بارش میں پورا کراچی زیرِ آب آ گیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ پیپلز پارٹی شہری مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔"

وزیراعلیٰ سندھ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "جب خود آپ نے شہر کو ریڈ لائن منصوبے کے نام پر کھود رکھا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ترقیاتی کام کب مکمل ہوں گے؟ کریم آباد انڈر پاس کب مکمل ہو گا؟ ریڈ لائن کب مکمل ہو گی؟ اسلام آباد میں ایک انڈر پاس صرف 72 دن میں بن گیا، مگر کراچی میں جہانگیر روڈ اور ناتھا خان برج کی حالت دیکھ لیں۔"

انہوں نے شکوہ کیا کہ "نہ صرف یہ کہ حکومت ترقیاتی فنڈ نہیں دیتی، بلکہ ہر ٹاؤن پر پنشن کے لیے 20 فیصد رقم اپنے وسائل سے مختص کرنے کی شرط بھی عائد ہے۔ جو ترقیاتی منصوبے شروع کیے جاتے ہیں، ان میں بھی کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔ واٹر بورڈ کی سربراہی بھی مرتضیٰ وہاب کے پاس ہے، مگر کارکردگی صفر ہے۔"

Advertisement