طالبان خود کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں، امریکہ تسلیم کریگا یا نہیں ،علم نہیں ،وزیراعظم
عمران خان نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اب غلط سمت میں چلا گیا تو افراتفری، انسانی بحران ، پناہ گزینوں کے بڑے مسائل جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔


دوشنبے: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان ایک حقیقت ہیں اور وہ اپنے آپ کو دنیا میں تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی افغان حکومت کی مدد سے بہت بڑے انسانی بحران سے بچا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے عالمی نشریاتی ادارے آر ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا یا نہیں؟ مجھے علم نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ صدرجو بائیڈن نے کیا وہ سمجھداری کا فیصلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں صدر بائیڈن پر بہت سی ناجائز تنقید ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تین دہشت گرد گروپ اب بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان کو خطے کے لیے سب سے اہم موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اس وقت ایک اہم تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے زور دے کر کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے خلاف ایک پروپیگنڈہ مہم شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ہوا کہ تین لاکھ افغان فوج لڑی ہی نہیں؟ ان کا سوال تھا کہ کیا پاکستان نے انہیں لڑنے سے منع کیا تھا؟
مزید پڑھیں : دستانے پہنے ہاتھوں نے سازش کی ہے : شیخ رشید
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نکتہ نظر سے افغان سرزمین سے دہشت گردی کا بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق افغان حکومت کی نااہلی ، کرپشن اور مو
گڈ گورننس نہ کرسکنے کی صلاحیت سے توجہ ہٹانے کے لیے پروپیگنڈہ کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ نے افغان جنگ میں 20 سال کے دوران 2 پزار ارب ڈالرز جھونک دیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن واستحکام کی واحد صورت ایک مشترکہ حکومت کا قیام ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جنگ ختم ہو چکی ہے ، اب امریکہ کہ ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں : ترجمان طالبان
عمران خان نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اب غلط سمت میں چلا گیا تو افراتفری، انسانی بحران ، پناہ گزینوں کے بڑے مسائل جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان کے مستقبل کے متعلق ابھی کوئی پیشن گوئی نہیں کرسکتا ہوں۔
نشریاتی ادارے آرٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سابق افغان حکومت کی افغانوں کی نظر میں کوئی عزت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو انسانی بحران، خوراک، بنیادی اشیا اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ افغان عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا موقع دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : احمد مسعود نے امریکی مدد کیلئے لابنگ گروپ کی خدمات حاصل کر لیں، نیویارک ٹائمز
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور ممکنہ طور پر ایران میں زیادہ پناہ گزین جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں اور ملک کو 150 ارب ڈالرز کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی طاقتوں کے خلاف جنگ کو افغان عوام جہاد سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان کامسئلہ سب کو مل کر حل کرنا ہوگا : وزیراعظم
وزیراعظم عمران خان نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ بھارتی حکومت آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی سے متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ امن اور بہتر تعلقات کے لیے اپنی پوری کوشش کی لیکن بھارت نے 5 اگست 2019 کو یکطرفہ طور پر کشمیر کی ریاستی حیثیت تبدیل کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے یہ کیا تو اس کے بعد ہمارے تمام رابطے منقطع ہو گئے۔ ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ جب تک بھارت اپنے اقدامات واپس نہیں لیتا ہے تو اس وقت تک بات نہیں ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کی افغانستان کے لیے برآمدات دگنی ہوگئیں
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے دنیا کو لاحق فکر مندی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں کی بہت فکر ہے مگر کشمیر میں ہونے والی خلاف ورزیوں کا کیا؟۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے 30 سے 40 ہزار کشمیری خواتین کے ساتھ زیادتی کی ہے۔
افغانستان: دنیامیں سونے سب سےبڑے ذخیرے کی تلاش شروع
وزیراعظم نے کہا کہ دعا ہے کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو خواہش ہے کہ یہ خطہ جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بن جائے۔
نشریاتی ادارے آرٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور سعوی عرب کے درمیان تنازع سے ترقی پزیر ممالک پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ روس کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری چاہتے ہیں۔

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی،شہباز شریف
- 18 گھنٹے قبل

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکا 40لاکھ رمضان کارڈ دینے کا اعلان
- 17 گھنٹے قبل

بانی پی ٹی آئی جیل میں کیا کھاتے ہیں؟ کونسی سہولیات میسر ہیں،رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
- 17 گھنٹے قبل

جنگ کا خطرہ ٹل گیا،جنیوا مذاکرات میں ایران اور امریکا نےمعاہدے کے اصولوں پر اتفاق کر لیا
- 12 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
وزیر خارجہ اسحاق ڈار سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک جائیں گے
- 11 گھنٹے قبل

بانی پی ٹی آئی بانی کے علاج سے متعلق پراپیگنڈا کیا گیا،بیرسٹر گوہر دعوت کے باجود نہ آئے، محسن نقوی کا دعویٰ
- 18 گھنٹے قبل

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین پاکستان کی تاریخ میں پہلی باریونیسکو چیئربرائے امن، تعلیم و مکالمہ مقرر
- 18 گھنٹے قبل

پاکستان اور آسٹریا کا مشترکہ اعلامیہ جاری، مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کام کرنے کے عزم کا اعادہ
- 13 گھنٹے قبل

تجاوزات کیخلاف آپریشن کے دوران اسسٹنٹ کمشنر ہاظم بنگوار پر پیٹرول بم سے حملہ
- 13 گھنٹے قبل

وزیراعظم کا امیر قطر سے ٹیلیفونک رابطہ،ماہ رمضان المبارک کی مبارکباد دی
- 11 گھنٹے قبل

بارش کے باعث زمبابوے اور آئرلینڈ کا میچ منسوخ،دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا، کینگروز ورلڈکپ سے باہر
- 14 گھنٹے قبل

احسن اقبال کی نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمان سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کاعزم کااعادہ
- 13 گھنٹے قبل









