Advertisement

انسانی جسم پر رات گئے لائٹ کے استعمال کے جان لیوا نقصانا ت

فلینڈرز یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو فلپس نے ریسرچ کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ریسرچ یہ واضح کرتی ہے کہ رات کے وقت زیادہ دیر تک لائٹ کا استعمال انسانی جسم میں ضیا بطیس ٹائپ ٹو کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jun 29th 2024, 3:06 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
انسانی جسم پر رات گئے لائٹ کے استعمال کے جان لیوا نقصانا ت

آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی کی ریسرچ کے مطابق انسانی جسم پر رات گئے لائٹ کا استعمال جیسا کہ سمارٹ فونز ، لیپ ٹاپ یا کسی بھی قسم کی لائٹ کا استعمال  برے اثرات مرتب کرتا ہے۔ 
فلینڈرز یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو فلپس نے ریسرچ کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ریسرچ یہ واضح کرتی ہے کہ رات کے وقت زیادہ دیر تک لائٹ کا استعمال انسانی جسم میں ضیا بطیس ٹائپ ٹو کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔ 
ضیا بطیس ٹائپ 2 کی خاصیت یہ ہے کہ یہ انسانی جسم کے اندر انسولین کے عمل کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے۔  نتیجتا خون میں شوگر کی مقدار کے بڑھنے سے انسانی جسم موٹاپے، جسمانی درد اور دیگر امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ 
حالیہ جاری ریسرچ کے نتائج کے مطابق رات 12 بجے سے لے کر صبح 6 بجے تک اگر روشنی کا استعمال نہ کیا جائے تو انسانی جسم کو بہت حد تک ضیا بطیس کے مرض سے محفوظ رکھاجا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ رات گئے روشنی سے اجتناب، ضیا بطیس کے مریضوں کو اپنا شوگر لیول کنٹرول کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ 
جانداروں کے جسم میں ایک قدرتی سائیکل موجود ہوتا ہے جسے سرکاڈین سائیکل کا نام دیا جاتا ہے۔ سرکاڈین سائیکل کا کام دن اور رات کے اوقات کے دوران جسم کی سرگرمیوں میں توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اس خاص قدرتی سائیکل میں روشنی ایک اہم عنصرکا کردار ادا کرتی ہے۔ اگر انسانی جسم وقت پر اپنی نیند پوری نہ کرے، اور رات گئے روشنیوں میں گھرا رہے تو انسانی جسم کو بے آرامی، تھکاوٹ، اور بینائی پر اثر کے ساتھ ساتھ ضیا بطیس(شوگر) ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا  ہے۔

Advertisement