نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیبل ڈیزیز جنوبی افریقا نے رواں ماہ 25 نومبر کو کورونا کی بی.1.1.529 قسم کا اعلان کیا تھا۔ اس دریافت کے بعد امریکا، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیا کے کئی ملکوں نے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔


کیپ ٹائون: جنوبی افریقا کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی علامات بہت معمولی ہیں۔ اس وائرس سے چالیس سال کی عمر تک کے افراد کو متاثر ہو رہے ہیں۔
جنوبی افریقا کے شعبہ صحت کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک کوٹزی نے بتایا ہے کہ اومیکرون کی علامات ڈیلٹا ویرئنٹ سے بہت مختلف ہیں۔ جو مریض علاج کیلئے لائے گئے ان کو گلے میں خراش، خشک کھانسی، ہلکا درد، انتہائی تھکاوٹ اور پٹھوں میں کھنچائو کی شکایت تھی۔
ڈاکٹر کوٹزی کا کہنا تھا کہ ایسی علامات عام طور پر عام وائرل انفیشکن سے متاثر مریضوں میں ہوتی ہیں۔ ایسے مریضوں کا گھر پر ہی علاج معالجہ کیا جا سکتا ہے۔ جن لوگوں کا تجزیہ کیا گیا ان میں سے پچاس فیصد نے کورونا کی ویکسی نیشن ہی نہیں کرائی تھی۔
دوسری جانب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا کی نئی قسم اومیکرون کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے لوگوں سے احتیاط کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ کتنا شدید ہے؟ ابھی اس کو سمجھنے میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیبل ڈیزیز جنوبی افریقا نے رواں ماہ 25 نومبر کو کورونا کی بی.1.1.529 قسم کا اعلان کیا تھا۔ اس دریافت کے بعد امریکا، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیا کے کئی ملکوں نے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
دنیا کی بڑی ایئر لائن کمپنیوں نے اومیکرون کے پھیلائو کو روکنے کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھاتے ہوئے جنوبی افریقا سے آنیوالے مسافروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیگر ملکوں پر بھی ایسی سفری پابندیاں عائد ہو سکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو عالمی دنیا کا نظام ایک بار پھر رک جائے گا۔
اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے حصص گرنا شروع ہو چکے ہیں۔ تاہم گذشتہ روز اس میں بہتری دیکھی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر اومیکرون کم خطرناک ہوا تو صورتحال پھر نارمل ہو سکتی ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیرمی پائول نے کورونا کی نئی قسم کی دریافت کے بعد غیر یقینی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو مہنگائی کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے سینیٹ میں دیئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اومیکرون کے پیدا ہونے معاشی سرگرمیاں اور روزگار ایک بار پھر خطرے میں پر چکا ہے۔
جیرمی پائول کا کہنا تھا کہ اومیکرون کا پھیلائو نہ روکا گیا تو سپلائی چین شدید متاثر جبکہ لیبر مارکیٹ سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی معیشت کی درجہ بندی کرنے والے اداروں موڈیز اور فچ ریٹنگز نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اومیکرون کی آمد نے معاشی بحالی کے امکانات کو شدید متاثر کیا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے ایک بیان میں عوام سے کہا ہے کہ انھیں بالکل بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس نئی قسم کے کورونا کے تدارک کیلئے میڈیسن کمپنیوں کیساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم لاک ڈاؤن نہیں نافذ کریں گے تاہم ویکسی نیشن، بوسٹر شاٹ لگوانا اور ماسک پہننا بہت ضروری ہے۔

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا
- ایک دن قبل

بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر
- 2 دن قبل

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فلسطینیوں کے حملہ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی
- 2 دن قبل

لاہور:موٹر سائیکل سوار شہری کا اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد، ملزم گرفتار
- 2 دن قبل

لاہور میں بسنت کی تاریخوں کا اعلان
- 2 دن قبل

نئے صوبوں کا قیام اور گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں، ابراہیم حسن مراد
- 2 دن قبل

نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی
- 2 دن قبل

لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک
- ایک دن قبل

پیٹرول پمپ ملازم تشدد کیس:عدالت کا ملزم کی رہائی کا حکم
- ایک دن قبل

آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور
- ایک دن قبل

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
- 2 دن قبل

پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل
- ایک دن قبل






